حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 13 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 13

نیز لکھا ہے :- دو اور یعقوب سے یوسف پیدا ہوا یہ اُس مریم کا شوہر تھا جس سے یسوع پیدا ہوا جو مسیح کہلاتا ہے۔" ( متی بابا آیت ۱۶) اس جگہ بھی بائبل ایک طرف مسیح کو ابن داؤد بیان کرتی ہے اور دوسری طرف ابن مریم۔اور یہی مسیح کا اصل نسب نامہ ہے جو بائبل بیان کرتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ قرآن کریم مسیح کو یوسف کا بیٹا تسلیم کرتا ہے یا نہیں اس وقت میں تو بائبل کی بات کر رہا ہوں جہاں تک ہمارے عقیدہ کا سوال ہے تو ہم مسیح کو قرآنی تعلیم کے مطابق بغیر باپ کے تسلیم کرتے ہیں اور حقیقی بات تو یہ ہے کہ اگر مسیح کے بطور نشان بغیر باپ کے پیدا ہونے کی شہادت قرآن کریم نہ دیتا تو پھر مسیح کی جائز پیدائش کے متعلق بھی مسیحی کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے۔یہ قرآن ہی ہے جس نے مسیح کی پیدائش کو ایک نشان قرار دے کر اُس کی والدہ حضرت مریم علیھا السلام کی عصمت اور پاکدامنی کی حفاظت فرمائی ہے ورنہ بائبل تو خود مسیح کو یوسف کا بیٹا قرار دیتی ہے جو واقعات کے لحاظ سے درست ثابت نہیں ہوتا۔بائبل کے مطالعہ سے ایک بات اور نظر میں آتی ہے کہ حضرت مسیح نے بھی اپنے آپ کو کبھی بھی خدا کا حقیقی بیٹا نہیں بیان کیا بلکہ آپ نے مثال دے کر یہود پر یہ بات صاف کر دی کہ میں اُسی طرح خدا کا بیٹا ہوں جس طرح تمہاری شریعت میں یہ لکھا ہے کہ میں نے کہا تم خدا ہو۔اس تعلق سے لکھا ہے کہ :- " یہودیوں نے اُسے سنگسار کرنے کے لئے پھر پتھر اٹھائے۔یسوع نے اُنہیں جواب دیا کہ میں نے تم کو باپ کی طرف سے بہتیرے اچھے کام دکھائے ہیں اُن میں سے کس کام کے سبب مجھے سنگسار کرتے ہو۔یہودیوں نے اُسے جواب دیا کہ اچھے کام کے سبب نہیں بلکہ کفر کے سبب تجھے سنگسار کرتے ہیں اور اس لئے کہ تو