حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 9
وو حقائق بائیل اور مسیحیت دیکھ تجھ سے ایک بیٹا پیدا ہوگا وہ صاحب صلح ہوگا اور میں اُسے اُس کی چاروں طرف کے سارے دشمنوں سے صلح دونگا کہ سلیمان اُس کا نام ہوگا اور امن و آرام میں اُس کے دنوں میں اسرائیل کو بخشونگا۔وہی میرے نام کیلئے ایک گھر بنائے گاوہ میرا بیٹا ہوگا اور میں اس کا باپ ہونگا۔“ ا - تواریخ باب ۲۲ آیت (۱۰۹) اس جگہ حضرت اسرائیل کو خدا نے اپنا بیٹا بیان کیا ہے۔اسی طرح حضرت داؤد کے بارے میں ایک دوسری جگہ لکھا ہے کہ :- " میں اُسے اپنا پلوٹھا بھی ٹھہراؤں گا۔اور زمین کے بادشاہوں سے بالا اسی طرح نئے عہد نامے میں لکھا ہے کہ :- (زبور باب ۸۹ آیت ۲۷) مبارک ہیں وہ جو صلح کراتے ہیں کیونکہ وہ خدا کے بیٹے کہلائیں گے۔“ (متی باب ۵ آیت ۹) اس آیت میں تمام صلح کروانے والوں کو یعنی قاضیوں کو خدا کے بیٹے قرار دیا گیا ہے بالکل یہی مضمون عہد نامہ قدیم میں بھی موجود ہے لکھا ہے کہ : -: وہ نہیں جانتے اور وہ سمجھیں گے نہیں وہ اندھیرے میں چلتے ہیں۔زمین کی ساری بنیا دیں جنبش کرتی ہیں میں نے تو کہا کہ تم الہ ہو اور تم سب حق تعالیٰ کے فرزند ہو۔“ ( زبور باب ۸۲ آیت ۶،۵) اس آیت میں تمام لوگوں کو خدا کے فرزند کہا گیا ہے۔بلکہ رومیوں کے حوالہ نے خدا کے بیٹوں کی ساری حقیقت کھول دی ہے لکھا کہ : -: اس لئے کہ جتنے خدا کے رُوح کی ہدایت سے چلتے ہیں وہی خدا کے بیٹے ہیں۔“ (رومیوں باب ۸ آیت (۱۴) اس حوالے نے تو بیٹے اور خدا کی حقیقت کو خوب کھول کر بیان کر دیا ہے۔اور ساری دنیا پر یہ بات آشکار کر دی ہے کہ خدا کا بیٹا ہونا کیا ہے اور خدا کے بیٹے کون ہیں اور خدا کتنے