حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 103 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 103

حاکموں کے سامنے حاضر کریں گے اور یہ تمہارے گواہی دینے کا موقع ہوگا۔پس اپنے دل میں ٹھان رکھو کہ ہم پہلے سے فکر نہ کریں گے کہ کیا جواب دیں۔کیونکہ میں تمہیں ایسی زبان اور حکمت دوں گا کہ تمہارا کوئی مخالف سامنا کرنے یا خلاف کہنے کا مقدور نہ رکھے گا۔اور تمہیں ماں باپ اور بھائی اور رشتہ دار اور دوست بھی پکڑوائیں گے بلکہ وہ تم میں سے بعض کو مروا ڈالیں گے۔اور میرے نام کے سبب سب لوگ تم سے عداوت رکھیں گے لیکن تمہار اسر کا بال بھی بیکا نہ ہو گا اپنے صبر سے تم اپنی جانیں بچائے رکھو گے۔۔۔۔۔اور سورج اور چاند اور ستاروں میں نشان ظاہر ہونگے اور زمین پر قوموں کو تکلیف ہوگی۔کیونکہ سمندر اور اُس کی لہروں کے شور سے گھبرا جائیں گی۔اور ڈر کے مارے اور زمین پر آنے والی بلاؤں کی راہ دیکھتے دیکھتے لوگوں کی جان میں جان نہ رہے گی۔اس لئے کہ آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی اُس وقت لوگ ابن آدم کو قدرت اور بڑے جلال کے ساتھ بادل میں آتے دیکھیں گئے۔۔۔۔۔پس ہر وقت جاگتے اور دعا مانگتے رہو تا کہ تم کو اِن سب ہونے والی باتوں سے بچنے اور ابن آدم کے حضور کھڑے ہونے کا مقدور ہو۔“ (لوقا باب ۲۱ آیت ۱۰ تا ۱۹ ، ۲۵ تا ۷ ۲ و ۳۶) ان تمام حوالہ جات میں جنہیں آپ پڑھ چکے ہیں ایک موعود مسیح کی پیشگوئیاں موجود ہیں۔اور اُس کی آمد استثناء باب ۱۸ میں بیان موعود کے بعد ہوگی جیسا کہ لکھا ہے کہ :- کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ اب سے تم مجھے پھر نہ دیکھو گے جب تک کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر آتا ہے۔“ وو (متی باب ۲۳ آیت ۳۹) پس اگر مسیحی دنیا کے نزدیک وہ خداوند کے نام پر آنے والا ابھی تک نہیں آیا جو دنیا کا سردار ٹھہرا اور دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا تو پھر اُن کا مسیح موعود کا انتظار کرنا فضول ہے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ سو سال گزر گیا اور عیسائی جگہ جگہ یہ لکھتے ہیں کہ