حقائق بائیبل اور مسیحیت

by Other Authors

Page 98 of 116

حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 98

۹۸ بارے میں حضرت مسیح پیشگوئی فرما رہے ہیں وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے۔دوسرا کوئی نہیں ہوسکتا۔اسی طرح ایک جگہ بائبل میں لکھا ہے کہ :- اور اب میں نے تم سے اُس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا تا کہ جب ہو جائے تو تم یقین کرو اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اُس کا کچھ نہیں۔“ (یوحنا باب ۱۴ آیت ۳۰،۲۹) اس پیشگوئی میں حضرت مسیح آئندہ آنے والے کو بھی دنیا کا سردار بیان کرتے ہیں لیکن ایک خصوصیت یہ بیان فرماتے ہیں کہ جو اب دنیا کا سردار آتا ہے مجھ میں اس کا کچھ نہیں ہے گویا کہ اس کا مقام میرے مقام سے بہت بڑا ہے۔اس بات کا مقابلہ گزشتہ صفحات میں بیان کردہ خصوصیات سے کیا جائے تو بات کھل جاتی ہے کہ وہ نبی ایسا ہے کہ جو اس پر گرے گا وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہوگا اور جس پر وہ گرے گا وہ بھی پیسا جائے گا جبکہ خود حضرت مسیح کا وجود ایسا تھا کہ جس کے بارے میں آپ خود فرماتے ہیں کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا۔پس اس جگہ حضرت مسیح جس آنے والے سردار کی بات کرتے ہیں اُس سے مراد بھی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے جو واقعی دنیا کا سردار بن کر ظاہر ہوا جس کے ذریعہ تمام انبیاء کی شریعت جمع ہوئی اور مکمل ہوئی۔اسی طرح ایک اور مقام پر بائیل میں لکھا ہے کہ :- " محبت کو زوال نہیں نبوتیں ہوں تو موقوف ہو جائیں گی زبانیں ہوں تو جاتی رہیں گی۔علم ہو تو مٹ جائے گا کیونکہ ہمارا علم ناقص ہے اور ہماری نبوت نا تمام لیکن جب کامل آئے گا تو ناقص جاتارہے گا۔“ (1 کرنتھیوں باب ۱۳ آیت ۸ تا ۱۰) دنیا کی اصلاح کے لئے جس قدر بھی نبی دنیا میں آئے وہ یا تو ایک ملک کے لئے یا