حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 99
۹۹ ایک زمانہ کے لئے یا پھر ایک قوم کے لئے تھے اور کسی نبی نے بھی یہ دعوی نہیں کیا کہ ہم کامل ہیں اور ہماری شریعت کامل ہے بلکہ ہر نبی نے ایک آنے والے کامل نبی کے متعلق پیشگوئی کے رنگ میں بات کی۔کسی مذہب کی بھی مذہبی کتاب اپنے آپ میں کامل ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔اگر کوئی نبی کامل ہونے کی حیثیت سے آیا اور اُس نے دعویٰ کیا تو وہ صرف اور صرف حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جن کے متعلق خدا نے گواہی دی کہ آپ خاتم النبین ہیں اور تمام نبوتیں آپ پر تکمیل پاچکیں اور تمام نبوتوں کا کمال آپ نے حاصل کیا۔اسی بات کو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي یعنی آج کے دن میں نے تمہارا دین تم پر مکمل کردیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی پس جو بائیبل کو مانتے ہیں اور ان انبیاء کو سچا تسلیم کرتے ہیں جنہوں نے یہ پیشگوئیاں کی ہیں تو اُن کے لئے لازمی ہے کہ اُن کو سچا بنانے کے لئے اس آنے والے وجود یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قبول کریں اور اُس کو سچا تسلیم کریں تا کہ وہ پیشگوئیاں کرنے والے سچے ثابت ہوں ؎ جب کھل گئی سچائی پھر اُس کو مان لینا نیکوں کی ہے یہ خصلت راہِ حیا یہی ہے