حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 97
۹۷ سے کی گئی ہے کہ اُن کے بھائیوں میں سے تجھ سا ایک نبی بر پاکروں گا جس کی وضاحت آپ پہلے پڑھ چکے ہیں پس یہ وہ نبی وہی ہے جس نے ایلیاہ اور مسیح کے بعد اور بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے آنا تھا۔حضرت مسیح کی اور موسی کی اور یوحنا کی یہ پیشگوئی بھی بڑی شان سے پوری ہوئی اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مصداق ٹھہرے۔اسی طرح ایک جگہ لکھا ہے کہ : وو راستبازی کے بارے میں اس لئے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔عدالت کے بارے میں اس لئے کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم اُن کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی سچائی کا رُوح آئے گا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا اس لئے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا اور تمہیں آئندہ کی خبریں دے گا۔“ وو ( یوحنا باب ۱۶ آیت ۱۰ تا ۱۳) اس آیت میں حضرت مسیح اپنے آپ کو دنیا کا سردار بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دنیا کا سردار مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔اور یہ سب جانتے ہیں کہ یہود نے حضرت مسیح کو مجرم ٹھہرا کر آپ کو صلیب پر چڑھایا تھا۔اس کے ساتھ ہی آپ نے ایک اور آنے والے کے متعلق پیشگوئی فرمائی ہے کہ لیکن جب وہ یعنی سچائی کا رُوح آئے گا توتم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا یہ سچائی کا رُوح کون ہے؟ یہ وہ نبی ہے جس کے بارے میں دوسری جگہوں پر بھی حوالے موجود ہیں۔پھر دوسری بات یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ اپنی طرف سے نہ کہے گا لیکن جو کچھ سنے گا وہی کہے گا “ یہ وہی بات ہے جو استثناء میں پہلے سے پیشگوئی کے رنگ میں بیان کی گئی ہے کہ ”میں اپنا کلام اُس کے منہ میں ڈالوں گا اور اس بات کو پہلے ثابت کیا جا چکا ہے کہ اس پیشگوئی کے مصداق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں پس وہ تمام سچائی کی راہ دکھانے والے اور خدا سے سن کر بیان کرنے والے جس کے آئندہ آنے کے