حقائق بائیبل اور مسیحیت — Page 93
۹۳ کی پیشگوئی ہے جس کی خصوصیات الگ ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مسیح میں موجود نہیں البتہ باب سے میں جو علامتیں بیان کی گئی ہیں وہ آپ میں پوری ہوئیں۔لیکن باب ۹ کی پیشگوئی میں ہے کہ سلطنت اس کے کاندھے پر ہوگی۔تمام عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ مسیح نے سلطنت حاصل نہیں کی بلکہ آپ تو بائیل کی بیان کردہ تاریخ کے مطابق ہر وقت ظلم وستم کا نشانہ بنے رہے اس کے بالمقابل دنیا جانتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے ہجرت کرنے کے باوجود مکہ کو فتح کیا اور سارے علاقہ میں آپ کی سلطنت قائم ہوگئی تھی۔دوسری خصوصیت یہ بیان فرمائی کہ وہ سلامتی کا شاہزادہ۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسیح علیہ السلام میں بھی ایک گونہ یہ خصوصیت پائی جاتی تھی لیکن اس کا مکمل عکس اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب کوئی مظلومیت سے حاکم بن جائے حاکم بن کر بھی سلامتی کا اعلان کرنا یہ اُس کے مکمل طور پر سلامتی کا شاہزادہ ہونے کی دلیل ہے۔حضرت مسیح چونکہ حاکم ہوئے ہی نہیں بلکہ آپ نے بائبل کی بیان کردہ ساری زندگی محکومیت میں گزاری ہے اس لئے اس کا مکمل طور پر آپ کے وجود سے ظاہر ہونا ممکن نہیں۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ والوں کے ظلم سہتے رہے پھر جب آپ حاکم ہوئے اور وقت آیا کہ ظالموں سے تمام بدلے لے لئے جائیں تو اُس وقت آپ نے تمام لوگوں کو معاف کر کے اپنا سلامتی کا شاہزادہ ہونا ثابت کر دیا۔پھر آپ نے جس دین کو پیش کیا وہ اسلام ہے جس کے معنی ہی سلامتی کے ہیں۔بائیل میں لکھا ہے کہ : " ایک اور تمثیل سنو! ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگوری باغ لگایا اور اس کے چاروں طرف احاطہ گھیرا اور اس میں ایک حوض کھودا اور برج بنایا۔اور اُسے باغبانوں کو ٹھیکے پر دیکر پردیس چلا گیا۔اور جب پھل کا موسم قریب آیا تو اُس نے اپنے نوکروں کو باغبانوں کے پاس اپنا پھل لینے کو بھیجا اور باغبانوں نے اُس کے