حمد و مناجات — Page 167
167 2 حمد سے لبریز دل ہیں، دل کھنکتے جام ہیں دل بھی اور جان و جگر بھی بس خدا کے نام ہیں دل کے اندر مسجدیں ہیں منبر ومحراب ہیں فتح ونصرت کے دسکتے جھلملاتے خواب ہیں دل کہ جس میں خواہشیں ہیں رتجگوں کے نور کی صاف اور روشن ہے دل جیسے تجلّی طور کی! رتجگوں کے ان حوالوں سے یہ دل روتا ہے آج دامنِ دل گریہ وزاری سے پھر دھوتا ہے آج درد سے خالی نہیں ہے دل کہ ٹھکرائے کوئی اور تیرے در سے خالی ہاتھ نہ جائے کوئی آنکھ سے موتی ڈھلک کر آگئے تارے بنے عرش کے تارے بنے تو اسطرح کہنے لگے جھانک کر دیکھا بھی ہے شہر تمنا میں کبھی !؟ تم ذرا اُترے بھی ہو بحر تمنا میں کبھی؟ فاقہ مستی فقر و درویشی غریبی کا مزہ کیا تمہیں معلوم ہے عشق حقیقی کا مزا (مصباح نومبر 1984ء) 31 دنیا میں کوئی مجھ سا گنہگار نہ ہو گا! شرمندہ کوئی مجھ سا خطا کار نہ ہو گا! رحمت کی کوئی آج گھٹا چھائے تو جی لوں اک ابر کرم مجھ پہ برس جائے تو جی ٹوں! صحرا ہے کہ وادی کوئی بے آب و گیاہ ہے؟ پڑھئے نہ مرا نامہ اعمال سیاہ ہے بس ایک فقط میں نے اگر کام کیا ہے! ہر سانس میں بس تیرا، فقط نام لیا ہے کی ہے تیرے بندوں کی فقط تھوڑی سی خدمت شائد کہ اسی بات پر بدلے میری قسمت! اس سر پہ ہر اک آئی بلا ٹالئے مولا! اب مجھ پہ بُرا وقت نہ کچھ ڈالئے مولا! تھوڑا ہی سہی مجھ پہ کرم کیجئے مولا! بخشش کا کوئی جام مجھے دیجئے مولا! (مصباح نومبر 1984ء)