حمد و مناجات

by Other Authors

Page 168 of 171

 حمد و مناجات — Page 168

168 محترمہ فریحہ ظہور صاحبہ یہ درد کا کانٹا جو میرے دل میں پچھا ہے مرہم ہے کوئی اس کا تو بس میرا خدا ہے اُس سے کوئی پردہ نہیں کیا اُس سے چھپا ہے وہ روح کے اندر بھی کہیں جھانک رہا ہے آیا ہے زمانہ جو کبھی درد , الم کا مشکل جو پڑی پیار مرا اور بڑھا ہے سر میرا بھی کٹ جائے حسین ابن علی سا اب لب پہ فقط ایک شہادت کی دعا ہے خود ہاتھ ހނ پنے میرا کردار سنوارا میرا تو وجوداس کے ہی سانچے میں ڈھلا ہے جو راہ لئے جاتی ہے قربت میں خدا کی اس راہ پر چل کر نہ کوئی پیچھے ہٹا ہے اس خوں میں گھلی جاتی ہے قرآں کی حلاوت فرمان تیرا روح میں یوں گونج رہا ہے زندگی جینا کوئی مشکل نہیں لیکن دوری ہے جو تجھ سے تو بڑی سخت سزا ہے اک بار جو قدموں میں مجھے اپنے جگہ دے سر پھر نہ اٹھاؤں گا یہ تا عمر جھکا ہے