حمد و مناجات — Page 163
163 محتر مہ رفعت شہناز صاحبہ محبت کی بس اک نظر چاہئے الہی دعا کا ثمر چاہئے اجالا کرے جو دل و جان پر ضیا بار ایسا قمر چاہئے مٹا اپنے فضلوں سے یاس و الم چھٹے رات غم کی، سحر چاہئے بجز تیری نصرت میں کیسے کہوں بلاؤں سے مجھ کو مفر چاہئے حنا رنگ گلشن جو چاہے کوئی وفاؤں کا پیہم اثر چاہئے گلہ کیوں زمانے کا کرتے پھرو خود اپنے عمل کی خبر چاہئے کھلے باب رحمت بلا دور ہو دعاؤں کا ایسا ہنر چاہئے عطا ہو جہاں روز و شب بے حساب گدا کو تو ایسا ہی در چاہیئے چاہئے میں کمزور بندہ ہوں، پر از خطا عطا ہو عفو ، در گزر دکھا اپنی شان کریمی کا رنگ تیری جنت میں اچھا سا گھر چاہئے محبت کی بس اک نظر چاہئے الہی دعا کا چاہئے ( الفضل 24 دسمبر 2003ء)