حمد و مناجات — Page 153
153 محتر مہ امۃ الباری ناصر صاحبہ 1 وہ نور ارض و سموات قادر و قیوم وہ کبریاء ہے سزاوار ہے خدائی اُسے وہ میرے حال پریشاں سے خوب واقف ہے ہزار پر دوں میں دیتا ہے سب دکھائی اُسے عجیب کیف دعا ہے کہ کچھ نہ مانگ سکوں میں چُپ رہوں بھی تو دیتا ہے سب سُنائی اُسے جو اُس کی یاد میں مچلیں ہیں گوہر نایاب کہ خوب بھاتی ہے اشکوں کی پارسائی اُسے سدا رہی ہوں شرابور ایک رحمت میں میں آنسووں کے سوا کچھ بھی دے نہ پائی اُسے فقط اُسی توقع مہربانی کی ہے ޏ دکھن کلیجے کی سجدے میں سب بتائی اُسے (خالد مئی 1990ء) IN 2 تراش کر زمین کے سارے جنگلات سے قلم میں چاہتی ہوں ربّ ذوالجلال کی مدح لکھوں سمندروں کے پانیوں کو روشنائی جان کر ہے آرزو خدائے با کمال کی مدح لکھوں اگر یہ کم پڑے تو کر کے بار بار یہ عمل ورق ورق پر حسن بے مثال کی مدح لکھوں ہزار مرتبہ پلٹ کے عرصۂ حیات لوں جنم جنم صفات با کمال کی مدح لکھوں وہ دیکھے میری آنکھوں میں تو اپنی ہی طلب ملے میں اس قدر خدائے ذوالجلال کی مدح لکھوں ہے اعتراف عجز اپنے دا من شعور کا سمجھ سکوں تو حُسنِ باکمال کی مدح لکھوں ”خدا کی قدرتوں کا حصر دعوی ہے خدائی کا ا جنون ہو تو عالی المتعال کی مدح لکھوں