حمد و مناجات — Page 154
154 محتر مدارشاد عرشی ملک صاحبه اسلام آباد بہت بیزار ہوں کارِ جہاں سے نہیں اس بحر کا کوئی کنارہ تری دنیا بڑی رنگین ہو گی، مگر لگتا نہیں اب دل ہمارا بنا تیرے گزارے ہیں زمانے نہیں دوری تری پر اب گوارا تو مجھ میں نور کی صورت میں اُتر جا، وگرنہ زندگی کیا ہے خسارہ تری خاطر فنا ہو جاوں پہلے پھر اس کے بعد جی اٹھوں دوبارہ میں تیری ہو گئی سارے کی ساری، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا مجھے خالص اطاعت بخش دے تو ، مجھے ذوق عبادت بخش دے تو ترے ہر حکم پر میں سر جھکا دوں، کچھ ایسی نرم فطرت بخش دے تو کیوں نکلے کبھی میرے لبوں سے کہ جی کہنے کی عادت بخش دے تو اگر طاغوت آجائے مقا بل مجھے بے مثل ہمت بخش دے تو چراغاں آندھیوں میں بھی کروں میں، اندھیرے ہوں تو بن جاؤں شرارا میں تیری ہو گئی سارے کی ساری ، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا محبت جو مرے دل میں بھری ہے، بہت انمول ہے نایاب ہے یہ یہ چشم نم یہ ٹوٹا دل دھرا ہے، مری پونجی میرا اسباب ہے یہ سر تسلیم خم ہر آن کرنا، وفا کا اولیس آداب ہے یہ تیری راہوں میں اپنی خاک اُڑانا، کتاب عاشقی کا باب ہے یہ لکیر اک روشنی کی چھوڑ جاؤں اگر چہ میں ہوں اک ٹوٹا ستارہ میں تیری ہو گئی سارے کی ساری تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا