حمد و مناجات — Page 100
100 جناب نور محمد نسیم سیفی صاحب ایڈیٹر الفضل 1 اک چاند ستاروں ہی کے تو چہروں پہ نہیں ہے تیری دمک اک لالہ و گل کے دامن تک محدود نہیں ہے تیری مہک اک طور پر جانے والے نے تو پائی نہیں ہے تیری جھلک ہر چیز پہ تیری ہستی کا ہے پر تو حسنِ نور بیاں ہر ذرہ عالم تیرے ہی جلووں سے ہے معمور یہاں بھیگی بھیگی برساتیں یہ شوخ بہاروں کی دنیا شام کی خوں آلودہ شفق یہ صبح کے تاروں کی دنیا یہ برق تبسم کی لہریں یہ مست نظاروں کی دنیا تیری ہی درخشانی رونق سے ہے ہر بزم ہستی پر پر تیری ہی ضیا ہے نور فشاں ہر ایک بلندی پستی دریا کے مچلتے سینے پر مہتاب کی کرنوں کا منظر یہ مٹتی ہوئی تاریکی شب یہ کھلتا ہوا سا نور سحر یہ نکھرا نکھرا رنگ چمن صدراحت دل، تسکین نظر تیری ہی تجلی خانہ سے چھن چھن کے یہ کرنیں آتی ہیں ہر ایک دھند لکے کو ارشاد رنگ و بو، فرماتی ہیں