حمد و مناجات

by Other Authors

Page 101 of 171

 حمد و مناجات — Page 101

101 ہر سمت فضائے رنگیں میں تنویر کا دھارا بہتا ہے ہر شے کی زبانِ حال پہ تیرا ہی افسانہ رہتا ہے آنکھیں کچھ دل سے کہتی ہیں دل آنکھوں سے کچھ کہتا ہے تیری ہی تمنا کا گویا چپ چاپ سا اک اظہار ہے یہ ہے آنکھ سے پوشیدہ جلوے اُلفت کا تیری اقرار ہے یہ ( الفضل 30 اپریل 1950 ء) 2 IN ہر شے کی زباں پر تری تحمید و ثنا ہے ہر بات سے ظاہر ہے کہ تو سب کا خدا ہے بھٹکی ہوئی روحوں کی نظر محو تجسس ہر قافلہء شوق تیری رہ میں کھڑا ہے ہر شام سے ملتا ہے پتہ نور سحر کا ہر صبح درخشاں تیرے چہرے کی ضیا ہے ہر غم میں جھلکتا ہے تیرا جوشِ محبت ہر ایک مسرت تیری رحمت کی قبا ہے ہر سینہء ظلمت میں کئی چاند ہیں پنہاں ہر چاند میں اک نور کا طوفان بپا ہے ہر برگ گل تر میں تقاضا ہے بقا کا ہر قطرہ شبنم ہے مائل بہ فنا ہے تثلیث کو یہ فکر کہ ہے " فہم سے بالا توحید کو یہ فخر کہ فطرت کی صدا ہے تو میری رگِ جاں سے بھی نزدیک ہے لیکن گا ہے مجھے دوری کا بھی احساس ہوا ہے ہر بات کو ملتی ہے چلا تیری نظر سے یہ رُوحِ سخن تیری ہی اک خاص عطا ہے ہر چیز تری راہ میں قربان ہے مولا جو کچھ بھی میرے پاس ہے تجھ سے ہی ملا ہے الفرقان سالنامه نومبر 1969ء)