حمد و مناجات

by Other Authors

Page 91 of 171

 حمد و مناجات — Page 91

91 جناب ثاقب زیروی صاحب راز بقائے زندگی کیا ہے مجھے بتا بھی دے جینے کا ولولہ بھی دے مرنے کا حوصلہ بھی دے عرصہ روزگار میں اُلجھا ہوا ہوں ذات سے اے میرے بادي ازل مجھ کو میرا پتا بھی دے محفلِ ہست و بود ہے کس کے لئے بھی ہوئی محفلِ ہست و بود کا سر نہاں بتا بھی دے تیری نوازشات سے قلب ہے مطمئن مگر مجھ کو تو اپنے عشق کی دولت بے بہا بھی دے طور بھی ایک امتحان دار بھی ایک امتحان ختم بھی کر یہ سلسلہ جلوہ رُخ دکھا بھی دے سوئی ہوئی ہے زندگی، کھوئی ہوئی ہے زندگی خواب زدہ حیات کو خواب سے تو جگا بھی دے کا سٹہ شوق لے کے تو آیا ہے ان کے رو برو آنکھوں سے التجا بھی کر دل انھیں صدا بھی دے ظلمت غم میں تا بہ کے کوئی رہے گا مبتلا تاروں بھری حیات کا رستہ اُسے دیکھا بھی دے غم بخشش و عفو کا چمن جس سے بہار خیز ہو مجھ سے گناہ گار کو ایسی کوئی سزا بھی دے محفل کا ئنات سے ٹوٹے بھی حلقہ محمود برابط صبح و شام کو نغمہ دل گشا بھی دے یوں ہی رہے تمام عمر درد وفا کا سلسلہ ثاقب خستہ حال کو وہ غم دیر پا بھی دے