حمد و مناجات — Page 64
64 جناب ظہور الدین اکمل صاحب 1 بڑھ چلا حد سے مرافق و کچھ راے مولیٰ کر رہا ہوں میں قصور پر قصوراے مولیٰ تو نے انعام پہ انعام کیئے ہیں مجھ پر سب سے بڑھ کے تو ہے مہدی کا ظہور اے مولیٰ میں پشیماں ہوں بڑا اپنی غلط کاری پر بخش دے مجھ سے ہوئے جتنے قصور اے مولیٰ اور مرے قلب میں وہ نور ہدایت بھر دے جس سے بن جاؤں میں اک عبد شکوراے مولیٰ رات دن تیری عبادت میں ہی مشغول رہوں اور مقبول بنوں تیرے حضور اے مولیٰ پھر اسی خاک میں ہو مسکن و مدفن میرا جس کے ہر ذرہ میں ہے طور کا نوراے مولیٰ اپنے محمود کی شوکت کو نمایاں کر دے سلسلہ میں ہو ترقی کا وجود اے مولیٰ اک بجوں ہو ہمیں کے پھیلانے کا پھونکیں توحید کا ہر وادی میں صور اے مولیٰ خواب غفلت کے جو ماتے ہیں وہ جاگیں جلدی مُردے زندہ ہوں جو ہیں سخت کفوراے مولیٰ اک نبی پاک مسیحائے زماں کے صدقے سُن لے اکمل کی دُعائیں تو ضرور اے مولیٰ