حمد و مناجات — Page 157
157 محبت ہے تری کرب مسلسل ، مگر اس کرب میں بھی لڑتیں ہیں تصور میں ملاقاتیں ہیں تجھ سے یہی ہم عاشقوں کی لذتیں ہیں دلا سے ہیں ترکی جانب سے ہر پل گوچپ رہنے کی تجھ کو عادتیں ہیں مٹا کے اپنی ہستی تجھ کو پالوں سلگتے دل کی بس یہ حسرتیں ہیں تو میری خاک میں تاثیر رکھ دے ، تو میرا نام رکھ دے خاکسارہ میں تیری ہو گئی سارے کی ساری ، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا ہر اک غم کی بہت آؤ بھگت کی یہی تھا میرا طرز میزبانی میں بچپن میں بہت کھیلی ہوں ان سے مجھے ہر درد نے دی ہے نشانی میرے مولا کا یہ بھی اک کرم ہے ، مری طاقت بنادی ناتوانی“ سکتی چیخ ہے یہ شاعری بھی ، جسے کہتی ہے دنیا خوش بیانی حسیں لفظوں کے پہنا کر لبادے سکتی شیخ کو میں نے سنوارا میں تیری ہوگئی سارے کی ساری تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا سنادی بے جھجک محفل میں میں نے، خود اپنے غم کی تفصیلی کہانی الم جو اپنے دل پہ گزرا لکھ دیا ہے نہیں آئیں مجھے باتیں چھپانی اُداسی مجھ پہ اب رچ بس گئی ہے یہی میری سہیلی ہے پرانی کبھی عرشی ملک تھا نام میرا پر اب کہتے ہیں سب جھلی نمانی میری دیوانگی کو معاف کرنا، نہیں دیوانگی بن اب گزارا میں تیری ہو گئی سارے کی ساری ، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا