حمد و مناجات

by Other Authors

Page 156 of 171

 حمد و مناجات — Page 156

156 چھپائے سے نہیں اب عشق چھپتا اچانک بڑھ گیا حد سے زیادہ مری حالت ہے اب اس شخص جیسی کہ جو بدنام ہو بد سے زیادہ نہ خود بیٹھے نہ مجھ کو بیٹھنے دے کچھ ایسا بھر گیا اس دل میں پارہ میں تیری ہو گئی سارے کی ساری، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا کبھی فرصت سے آکر دیکھ لینا کہ کیا حالت ترے بیمار کی ہے نظر کی جوت بجھتی جا رہی ہے مگر اک آرزو دیدار کی ہے میں اپنے حال پر راضی بہت ہوں کہ اب مرضی یہی سرکار کی ہے مرے باطن میں جتنی روشنی ہے یہ سب رونق مرے دلدار کی ہے ہر اک منظر کی تو روح رواں ہے نظر بھی تو ہے اور تو ہی نظارہ میں تیری ہو گئی سارے کی ساری، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا ترا دیدار ہو دونوں جہاں میں بصیرت اور بصارت بخش دے تو تری ہی سمت میرا ہر سفر ہو مرے جذبوں کو حدت بخش دے تو ہو تیرا ذکر تو دل با ادب ہو وہ اُلفت وہ مودت بخش دے تو اتر جائیں مرے اشعار دل میں مجھے ایسی فصاحت بخش دے تو ترے ہی منہ کا اب بھوکا ہے ہر دم اداس و غمزدہ یہ دل ہمارا میں تیری ہو گئی سارے کی ساری، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا مری ہستی کے ہر ذرے میں آجا ، تو مجھ میں روشنی بن کر سما جا بچا لے مجھ کو سفلی لذتوں سے تو نفسانی اسیری سے چھڑا جا ملا دے دفعتاً جو تجھ سے پیارے وہ راہ مختصر مجھ کو بتا جا میں اک مزدور تو اجرت ہے میری پسینہ سوکھنے سے قبل آجا نہ کرنا صبر کی تلقین مجھ کو نہیں ہے صبر کا اب مجھ میں یارا میں تیری ہوگئی سارے کی ساری ، تو اب ہو جا مرا سارے کا سارا