حمد و مناجات — Page 148
148 جناب قاضی محمد یوسف صاحب تیری درگاہ میں یارب ہے ہر دم التجا میری کہ اپنے فضل و احساں سے مجھے بخشیں خطا میری میری روح ہوگئی روگی خطا اور سہو و عصیاں سے تیرے ہاتھوں میں ہے یارب دوا میری شفا میری تیرے فضل و کرم سے بن گیا مئی سے سونا میں تیری گن سے ہوئی آغاز تعمیر بنا میری تیرے فضل و عطا نے میری ہر دم دستگیری کی تیرے احساں سے خوش گزری ہے ہر صبح و مسا میری میرے حستاد ساعی ہیں کہ میرا تن کریں عُمر یاں حیلے بہانے سے یہ چھن جائے ردا میری ہے میرا حافظ میرا حامی میرا ناصر تو ہی تو یہ حاسد کیا بگاڑیں گے سبھی مل کہ بھلا میری میں بندہ ہوں تو آقا ہے میں تابع ہوں تو مولا ہے تری مرضی کے تابع ہے خدا وندا رضا میری نہ عالم ہوں نہ شاعر ہوں نہ دعوی ہے کسی فن کا مگر دل میں تڑپ ہے یہ وہ سمجھیں مدعا میری تیرے دربار میں یوسف کی یارب آرزو یہ ہے کہ اپنے فضل واحساں سے ہمیشہ سن دُعا میری (مصباح اگست 1961ء)