ہماری تعلیم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 27 of 41

ہماری تعلیم — Page 27

صورتوں میں کر دیا ہے کوئی آمین بالجہر کرتا ہے کوئی پوشیدہ کوئی خلف امام فاتحہ پڑھتا ہے کوئی اس پڑھنے کو مفسد نماز جانتا ہے کوئی سینہ پر ہاتھ باندھتا ہے کوئی ناف پر اصل وجہ اس اختلاف کی احادیث ہی ہیں كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ “ورنہ سنت نے ایک ہی طریق بتلایا تھا پھر روایات کے تداخل نے اس طریق کو جنبش دے دی۔۔۔گناہ سے رہائی پانے کا طریقہ صرف یقین کامل ہے اے خدا کے طالب بند و ! کان کھولو اور سنو کہ یقین جیسی کوئی چیز نہیں یقین ہی ہے جو گناہ سے چھڑاتا ہے۔یقین ہی ہے جو نیکی کرنے کی قوت دیتا ہے یقین ہی ہے جو خدا کا عاشق صادق بناتا ہے کیا تم گناہ کو بغیر یقین کے چھوڑ سکتے ہو۔کیا تم جذبات نفس سے بغیر یقینی تجلی کے رُک سکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی تسلی پاسکتے ہو۔کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی تبدیلی پیدا کر سکتے ہو کیا تم بغیر یقین کے کوئی سچی خوشحالی حاصل کر سکتے ہو۔کیا آسمان کے نیچے کوئی ایسا کفارہ اور ایسا فدیہ ہے جو تم سے گناہ ترک کر اسکے کیا مریم کا بیٹا عیسی ایسا ہے کہ اس کا مصنوعی خون گناہ سے چھڑائے گا۔اے عیسائیو ایسا جھوٹ مت بولو۔جس سے زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے یسوع خود اپنی نجات کے لئے یقین کا محتاج تھا اور اُس نے یقین کیا اور نجات پائی۔افسوس ہے اُن عیسائیوں پر جو یہ کہہ کر مخلوق کو دھوکا دیتے ہیں کہ ہم نے مسیح کے خون سے گناہ سے نجات پائی ہے حالانکہ وہ سر سے پیر تک گناہ میں غرق ہیں وہ نہیں جانتے کہ اُن کا کون خدا ہے بلکہ المؤمنون ، ۵۴:۲۳ 27