ہماری تعلیم — Page 18
مبار کی ہو اُس انسان کو جو اس راز کو سمجھ لے اور ہلاک ہو گیاوہ شخص جس نے اس راز کو نہیں سمجھا۔اسی طرح تمہیں چاہئے کہ اس دنیا کے فلسفیوں کی پیروی مت کرو اور ان کو عزت کی نگہ سے مت دیکھو کہ یہ سب نادانیاں ہیں سچا فلسفہ وہ ہے جو خدا نے تمہیں اپنی کلام میں سکھلایا ہے ہلاک ہو گئے وہ لوگ جو اس دنیوی فلسفہ کے عاشق ہیں اور کامیاب ہیں وہ لوگ جنہوں نے سچے علم اور فلسفہ کو خدا کی کتاب میں ڈھونڈا۔نادانی کی راہیں کیوں اختیار کرتے ہو کیا تم خدا کو وہ باتیں سکھلاؤ گے جو اُسے معلوم نہیں۔کیا تم اندھوں کے پیچھے دوڑتے ہو کہ وہ تمہیں راہ دکھلاویں۔اے نادانو! وہ جو خود اندھا ہے وہ تمہیں کیا راہ دکھائے گا بلکہ سچا فلسفہ روح القدس سے حاصل ہو تا ہے جس کا تمہیں وعدہ دیا گیا ہے تم روح کے وسیلہ سے ان پاک علوم تک پہنچائے جاؤ گے جن تک غیروں کی رسائی نہیں اگر صدق سے مانگو تو آخر تم اُسے پاؤ گے۔تب سمجھو گے کہ یہی علم ہے جو دل کو تازگی اور زندگی بخشتا ہے اور یقین کے مینار تک پہنچادیتا ہے وہ جو خود مردار خوار ہے وہ کہاں سے تمہارے لئے پاک غذ الائے گا۔وہ جو خود اندھا ہے وہ کیونکر تمہیں دکھاوے گا۔ہر ایک پاک حکمت آسمان سے آتی ہے پس تم زمینی لوگوں سے کیا ڈھونڈتے ہو جن کی روحیں آسمان کی طرف جاتی ہیں وہی حکمت کے وارث ہیں جن کو خود تسلی نہیں وہ کیونکر تمہیں تسلی دے سکتے ہیں مگر پہلے دلی پاکیزگی ضروری ہے پہلے صدق وصفا ضروری ہے پھر بعد اس کے یہ سب کچھ تمہیں ملے گا۔18