ہماری تعلیم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 17 of 41

ہماری تعلیم — Page 17

* اور احتمال ہے کہ اُن سے کئی خون بھی ہو جائیں۔اسی طرح تمہاری تدابیر بغیر خدا کی مدد کے قائم نہیں رہ سکتیں اگر تم اس سے مدد نہیں مانگو گے اور اس سے طاقت مانگنا اپنا اصول نہیں ٹھہر آؤ گے تو تمہیں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو گی۔آخر بڑی حسرت سے مرو گے۔یہ مت خیال کرو کہ پھر دوسری قومیں کیونکر کامیاب ہو رہی ہیں حالانکہ وہ اُس خدا کو جانتی بھی نہیں جو تمہارا کامل اور قادر خدا ہے۔اس کا جواب یہی ہے کہ وہ خدا کو چھوڑنے کی وجہ سے دنیا کے امتحان میں ڈالی گئی ہیں خدا کا امتحان کبھی اس رنگ میں ہوتا ہے کہ جو شخص اُسے چھوڑتا ہے اور دنیا کی مستیوں اور لذتوں سے دل لگاتا ہے اور دنیا کی دولتوں کا خواہشمند ہوتا ہے تو دنیا کے دروازے اس پر کھولے جاتے ہیں اور دین کے رو سے وہ نر ا مفلس اور ننگا ہوتا ہے اور آخر دنیا کے خیالات میں ہی مر تا اور ابدی جہنم میں ڈالا جاتا ہے اور کبھی اس رنگ میں بھی امتحان ہو تا ہے کہ دنیا سے بھی نامر اور کھا جاتا ہے مگر مؤخر الذکر امتحان ایسا خطر ناک نہیں جیسا کہ پہلا کیونکہ پہلے امتحان والا زیادہ مغرور ہوتا ہے بہر حال یہ دونوں فریق مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ہیں۔سچی خوش حالی کا سر چشمہ خدا ہے پس جبکہ اس حي وقیوم خدا سے یہ لوگ بے خبر ہیں بلکہ لا پروا ہیں اور اس سے منہ پھیر رہے ہیں تو سچی خوشحالی اُن کو کہاں نصیب ہو سکتی ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے دوسری جگہ تصریح فرمائی ہے ابدی سے مراد اس جگہ لمبازمانہ ہے۔(مرتب) 17