ہماری کہانی

by Other Authors

Page 88 of 124

ہماری کہانی — Page 88

AA کے انجیکشن کے ساتھ شرطیہ علاج کر سکتا ہے۔صحت یاب ہونے پر دس ہزار روپے ادا کریں۔بابا نے خوش اسلوبی سے منع کر دیا۔سوچا کہ جب خود علاج کروانے کے قابل نہیں ہوں تو کیا فائدہ کسی کا احسان لوں۔زندگی اور موت خدا کے ہاتھ ہے۔بابا کو خود یہ اندازہ تھا کہ وہ زیادہ نہیں جی سکیں گے۔عارف کو گلے لگاتے، بہت پیار کرتے۔امی سے کہتے۔رقیہ اس کا بہت خیال رکھنا، ایک دن امتی کو پرانے کاغذات میں سے کچھ ایسے کا غذات ملے جن میں بابا سے بہنوں کے کچھ قرضہ لینے کا تحریری ثبوت تھا۔اتنی نے کہا کیوں نہ ہم اس ضرورت کے وقت ان سے تقاضا کریں۔بابا نے کاغذ ہاتھ میں لے کر دیکھا اور فوراً پھاڑ دیا۔امی سے کہا قرض واپس تو ملے گا نہیں۔اپنا ثواب کیوں ضائع کروں۔بابا انتہائی مجبوری میں خدا کے آگے ہی جھکتے تھے اور اسی سے اپنی ہر فریاد اور ہر دکھ بیان کرتے۔ایک دن امی جان مجھے ساتھ لے کر خاندان کے ایک بہی خواہ ڈاکٹر ظفر صاحب کے پاس گئیں اور کہا کہ آپ ہی آکر کوئی انجیکشن وغیرہ دیں۔ڈاکٹر صاحب زار و قطار رونے لگے اور کہا " اب میں کیا کروں گا جا کر۔میں اپنے دوست کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ہم بہت ہی مایوسی کی حالت میں دعائیں پڑھتے ہوئے واپس آرہے تھے۔ابھی سیڑھی نہ چڑھے تھے کہ ایک مانوس سی شخصیت ہاتھ میں ڈاکٹری بیگ لئے نظر آئی۔جان پہچان تھی۔وہ کبھی فیملی ڈاکٹر رہے تھے پھر لندن سے اعلیٰ تعلیم لے کر واپس آئے تھے۔اس نے پوچھا "مستر ستار ! آپ یہاں کہاں ؟ اس نے ہمارے اچھے زمانے دیکھے تھے۔اس طرح پوچھنے پر امی جان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔بابا کی بیماری کی بابت بتایا۔وہ بڑی خوش اخلاقی سے بغیر فیس لیئے بابا کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ایک دن ایسا بھی آیا کہ امتی کے پاس صرف ایک چوٹی تھی۔اور باجی عائشہ کے سسرال والے بھی آگئے۔اس سے کسی نہ کسی طرح اُن