ہماری کہانی

by Other Authors

Page 73 of 124

ہماری کہانی — Page 73

۷۳ سمجھ کر قدم اٹھانا مناسب ہوگا اور وہ حسب ذیل ہے۔ئیں جیسا کہ آپ جانتے ہیں روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہوں اور اب تک اس میں کامیابی نہیں ہوئی ہے اور اب اس ہی مقصد سے میں سکندر آباد جا رہا ہوں۔شاید اللہ تعالیٰ وہاں کوئی صورت پیدا کر دے یا پھر اس کے بعد جہاں کہیں بھی کوئی امید ہوگی اس کی کوشش کروں گا مگر میرا کام ہو یا نہ ہو چونکہ میرے بیوی بچے کلکتہ میں ہیں مجھے کلکتہ آنا ہوگا۔یہ تو میں ابھی نہیں کہہ سکتا کہ کب آنا ہوگا بنگر اللہ تعالیٰ نے اگر زندہ رکھا تو بہر حال آنا ہوگا۔آپ اس وقت کلکتہ میں ہیں اور بچوں کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔آپ کی صحت کے متعلق مجھے برابر خبریں ملتی رہتی ہیں اور ئیں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء علی عطا کرے اس کے علاوہ آپ کی ضعیفی کا لحاظ کرتے ہوئے یہ ضروری اور نہایت ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آپ اب کلکتہ میں ہی بچوں کے پاس بیٹھیں اور ضرورت ہے اور وقت ہے کہ آپ کی خدمت کی جائے مگر جو گفتگو آپ سے لکھنو میں ہوئی تھی اس کو جب سوچتا ہوں تو میری روح کو بہت صدمہ پہنچتا ہے کہ سالہا سال کی غلط فہمی اور اختلاف کے بعد جب یہ وقت آیا کہ صلح و صفائی کے بعد ہم کو آپ بزرگ کی خدمت کا موقعہ ملے تو اس وقت ایک نئی غلط فہمی پیدا ہوگئی جس کا نتیجہ آپ کے لکھنو کے بیان کے مطابق یہ ہوتا ہے کہ میرے آنے پر آپ وہاں سے علیحدہ ہو جائیں گے یہ بہت ہی افسوسناک اور حسرت آمیز بات ہے کہ جب ہم لوگوں میں آپس میں کوئی اختلاف نہیں ہے پھر بھی صرف دوسروں کی غلط فہمی یا چند مولویوں کے فتوے ہمیں زبر دستی دور کر دیں یہ واقعی بہت افسوسناک واقعہ ہو گا۔آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں بہت سے معاملات ہوتے ہیں جو کچھ دن کے شور و نشر کے بعد ختم ہو جاتے ہیں پھر کچھ بھی نہیں ہوتا۔علاوہ اس کے جو مقصد اس شور و شر کا تھا کہ مجھے اس طریقہ سے اپنی راہ سے ہٹا دیا جائے