ہماری کہانی — Page 72
۷۲ بھی تھا کہ تمہارا باپ ایسے موقعہ پر پہنچ جائے گا اور خرچ دے گا۔پھر یہ کہ ان کی شرط تھی کہ میں طلاق دے دوں اور علیحدگی اختیار کر لوں تب وہ کریں گے مگر میں نے بہت بے دردی سے ان کی شرط کو ٹھکرایا اس کے باوجود وہ کچھ نہیں کر سکتے۔بمبئی جانا چاہتے ہیں مگر اللہ کا حکم ہے کہ نہیں جا سکتے۔ان کو کس طرح باندھ رکھا ہے۔یہ سب کچھ کیا تم کو نظر نہیں آتا۔کیا اس کی تہ میں اللہ تعالیٰ کا ہاتھ نہیں نظر آنا مگر ہاں معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس یہ امر فیصل شدہ ہے کہ میں اور وہ ایک جگہ نہیں رہ سکتے۔شاید میں آؤں جب ہی وہ جاسکیں۔لہذا اللہ سے اپنا تعلق قائم رکھو اور اس رستی کو خوب مضبوط پکڑو کسی انسان پر بھروسہ نہ رکھو بلکہ اسی رازق العباد سے معاملہ رکھو۔از بیٹی المورخہ ۲۷ جولائی کہ میرے محترم بزرگ غریب الوطن عبد الستار میں نے اپنا ذاتی فیصلہ قادیان سے آپ کو لکھ دیا اور وہ آپ کو پہنچ چکا ہے اس کے بعد سے برا ہر گھر کے خطوط سے آپ لوگوں کی خیریت معلوم ہوتی رہتی ہے اور اس کے بعد میرے حالات بھی میں برابر لکھتا رہا ہوں جو آپ کو گھر سے معلوم ہوتے رہے ہوں گے۔آج خصوصاً آپ کو مخاطب کرنے کی جو ضرورت مجھے پیش آئی ہے وہ نہایت اہم اور بہت ضروری ہے جو میں ذیل میں بیان کر رہا ہوں اور اس کے لئے میں آپ سے بہت ادب کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ مہربانی فرما کر اس خط کو اول سے آخر تک پوری طرح آہستگی اور اطمینان کے ساتھ پڑھیے اور اس پر پوری طرح ٹھنڈے دل سے غور کیجئے اور خوب غور کیجئے اور چونکہ یہ معاملہ ایک پورے خاندان پر اثر انداز ہے اس لئے خوب سوچ