ہماری کہانی

by Other Authors

Page 56 of 124

ہماری کہانی — Page 56

۵۶ اور جواب دینے میں اس قدر دیر لگی اور یہی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے آخر کار صحیح فیصلہ کی توفیق عطا کی کہ مجھے اللہ تعالیٰ سے دوکانداری منظور نہیں ہے اور میں کسی دوسرے کی رزاقیت اور ربوبیت تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں بھی مر جاؤں گا اور دوسرے بھی سب فانی انسان ہیں پھر اس کے بعد میرے بچوں کی اور بیوی کی پرورش کون کرے گا لہذا میں صرف اس زندہ حی و قیوم خدا کے حوالہ کرتا ہوں جو ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اور اپنی بیوی اور بچوں کی جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی ذمہ داری جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر عائد کی ہے اس سے میں دست بردار ہونے کو تیار نہیں یا اَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيكُمْ نَاراً ( الحريم ) که اسے ایمان والو تم اپنے آپ کو اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔اس حکم کے ماتحت بھی یہ میری ذمہ داری ہے نہ کہ کسی اور کی ہیں اللہ تعالیٰ سے توفیق طلب کرتا ہوں کہ وہ مجھے ان ذمہ داریوں کے پورا کرنے کی توفیق دے۔البتہ موت کے ساتھ ساری ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں تو جس کو بھی یہ بات پسند نہ ہو وہ میری موت کا انتظار کرے۔اسی طرح سے میں ذکیہ کی شادی کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ اب مجھے اس معاملہ میں بہت کچھ سوچنا ہے۔بہت ممکن ہے کہ تم کو ضلع کے لئے مجبور کیا جائے مگر میں یقین سے کہتا ہوں کہ اور بہت سی بے معنی اور لغو حرکات جیسے طلاق اور تجدید نکاح وغیرہ کی کی گئیں اسی طرح کی یہ ایک لغو حرکت ہو گی۔نتیجہ کے لحاظ سے نہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں یہ کوئی چیز ہے اور نہ حکومت کا قانون اس کو روا رکھتا ہے۔یہ چند جبہ پوش اخوان الشیاطین کا دلچسپ مشغلہ ہے جو اپنے آپ کو علماء کہتے ہیں اور جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چودہ سو برس پیشتر شر مَنْ تَحْتَ أَديمِ السَّمَاء یعنی آسمان کے نیچے بدترین مخلوق کا خطاب دیا ہوا ہے۔میری نظر میں ایک رومی کا غذ کے ٹکڑے کے برابر بھی ان فتووں