ہماری کہانی

by Other Authors

Page 11 of 124

ہماری کہانی — Page 11

کو اکھاڑنے کی اس نے بہت کوشش کی۔حتی کہ جان پر بھی حملہ کیا۔مگر بابا اپنی وفاداری سے باز نہ آئے تو اس نے ایک اور ترکیب کی اور بھاری رشوت پیش کی۔اس زمانے کے دو لاکھ روپے کا اندازہ اب نہیں ہو سکتا۔وہ پوٹلی لے کر آئے اور کہا کہ ہم نے ہر کوشش کر لی مگر آپ کمال کے ڈھیٹ ہیں۔اب یہ آخری صورت ہے۔اس نے بد اخلاقی کی مار ماری تھی مگر بابا کی اخلاق کی مار جیت گئی۔بابا نے کہا۔"آپ پوٹلی اٹھا لیں تو ہم آج سے دوست ہیں ، یہ تو ایک واقعہ تھا اس طرح کی کئی اور باتوں سے مل کی آمدنی کم ہو گئی تو مالک سیٹھ نے بے رخی اختیا کر لی۔بابا نے ملازمت چھوڑ کر چائے کافی کا کاروبار شروع کیا جس میں کافی ترقی ہوئی۔بابا سے شوگر مل کے مالک سیٹھ عبد الرحیم عثمان نے بڑی معذر کی اور بہت وعدے وعید کئے کہ اب ہم ضلع موتی پور میں نئی شوگر مل لگانا چاہتے ہیں۔آپ کام جانتے ہیں آپ ہی کام سنبھالیں۔بابا کے پاس کوئی ملازمت نہیں تھی اس لئے کچھ سوچ کر حامی بھر لی۔اس دفعہ یہ مل سیٹھ عبد الرحیم عثمان صاحب اور سیٹھ عبد اللہ ہارون صاحب کی شراکت میں بنی تھی سیٹھ عبد اللہ ہارون صاحب بابا کے رشتہ کے خالو بھی تھے۔لہذا بابا نے کام شروع کیا۔۲۵ اپریل لہ میں بابا کو ایک صدمہ دیکھنا پڑا۔بابا کے والد یعنی ہمارے دادا حاجی ابا محمد عثمان وفات پاگئے۔ان کی عمر سو سال تھی۔بابا کام سے جاوا گئے ہوئے تھے دادا جان کو بابا سے بے حد پیار تھا۔ہرلمحہ باب کو یاد کرتے۔وفات کے وقت بھی ان کی آنکھیں دروازے پر تھیں اور ہاتھ دعا کے لئے اٹھے تھے۔دادا جان کے متعلق ایک بات مجھے یاد ہے۔ان کی عادت تھی کہ وہ روزانہ بکرے کی دو آنکھیں سیخ پر بھنوا کر کھاتے تھے۔ٹھیک گیارہ بجے یہ سیخ آتی۔ہم بیچے آنکھیں بند کر کے کمرے سے بھاگ جاتے۔اتنا علم ہے کہ دادا جان کی بنیائی آخری لمحہ تک ٹھیک رہی مگر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسکی وجہ یہی