ہماری کہانی — Page 101
١٠١ نوکر سے پوچھا " تم نے یہ خطا کن صاحب سے لکھوایا تھا ؟ " اس نے ایک بیٹڈ کی طرف اشارہ کر دیا۔باجی فوراً ان سے ملیں۔ایک دوسرے کا تعارف ہوا۔جب انہیں یہ علم ہوا کہ باجی احمدی باپ کی بیٹی ہیں اور بے پردہ ہیں تو منتعجب ہو کر کہا: احمدی باپ کی بیٹی اور اس حال میں۔پھر انہوں نے ایک مسجد کا پتہ دیا اور کچھ لٹریچر دیا۔اس طرح باجی کے گھر کے دروازے احمدی لٹریچر کے لئے کھل گئے۔قادر و توانا خدا نے بابا کی امانت کو ضائع ہونے سے بچا لیا۔خدا تعالیٰ نے یہ معجزہ دکھایا کہ ہمیں احمدیت کی گود میں ڈالنے کا غیب سے سامان فرمایا۔یہ بھی عجیب تصرف الہی تھا کہ باجی نے ڈھاکہ سے اور میں نے کلکتہ سے ایک ہی وقت میں بیعت کے خطوط لکھے۔اب سینیٹے آپا رابعہ نے کیسے احمدیت قبول کی۔قربان جاؤں مولا کریم کے یہاں بھی معجزہ ہی ہوا۔ایک دن ان کے شوہر عبد الرحیم یونس صاحب نے آکر بتایا کہ ہمارے مکان کے پاس ایک بہت نورانی شکل کے بزرگ مولوی انور صاحب رہتے ہیں۔ان کی بیوی کی بہن مسعودہ صاحبہ سے آپا رابعہ کی علیک سلیک ہوگئی۔ایک اور خاتون جو پڑوس میں ملنے کے لئے آئی تھیں، نوک والا نقاب پہنے ہوئے تھیں۔آیا رابعہ نے پوچھا۔آپ احمدی ہیں۔وہ نرائن گنج کے صدر جماعت احمدیہ کی بیگم تھیں۔آپا رابعہ ان دونوں خواتین سے کتب اور الفضل لے کر پڑھتی رہیں مگر شوہر بہت سخت مزاج تھے حتی کہ ایک دفعہ جمعہ پر جانے کے قصور میں ہاتھ بھی چلایا۔پھر یہ دستور ہو گیا۔آپا صبر سے برداشت کرتیں۔ایک دفعہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ طلاق کی دھمکی دے دی۔آپ کو حضرت مسیح موعود کے عشق کے طفیل ہمت عطا ہوئی اور ان کو تبلیغ شروع کر دی عبد الکریم صاحب انور صاحب سے متاثر تھے کبھی بات سن لینے کبھی بگڑ