ہماری کہانی — Page 91
۹۱ کہتے مگر احمدیت کے راستے پر چلنے والے کا ساتھ نہ دیا۔بابا نے پڑوسیوں کو احمدی جماعت کے لوگوں کے فون نمبر دیے تھے تاکہ وقت آجائے تو اطلاع کر دی جائے۔امی جان کو بھی کہا تھا کہ میمن مسجد میں جنازہ اور میمنوں کے قبرستان میں تدفین ضروری نہیں ہے۔یہ لوگ شرارت کریں گے اپنی اپنے غم کے باوجود ہوشیار تھیں۔عظیم بھیا ، ہادی ماموں اور علی خالو نے زندگی میں ساتھ دیا تھا ابھی بھی وہی کام کر رہے تھے میمن جماعت کے لوگ بھی جمع ہو گئے غنڈے قسم کے لوگ بڑی میمن مسجد کے باہر جمع ہو گئے۔احمدی احباب بھی جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے کیا تردد ہے۔جنازہ اٹھانے دیں۔یونس عثمان اور عبدالکریم بھی آئے۔اور اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ بابا جان کے پاؤں کی طرف کھڑے ہوئے۔یہ بھی مسیح پاک کا اعجاز تھا۔ان کی نماز جنازہ احمدی احباب نے مین قبرستان میں پڑھی اور غائبانہ نماز جنازہ کلکتہ کی مسجد میں پڑھی گئی اور قادیان میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے نماز جنازہ غائب پڑھائی۔الحمد للہ علی ذلک۔اللہ کے کام دیکھئے ان دنوں ممین قوم میں یکے بعد دیگرے ۵۲ وفاتیں ہوئیں۔بڑی اماں نے اپنے کانوں سے سنا۔لوگ کتنے تھے عبدالستارہ قادیانی کی بددعاتو نہیں لگی۔بابا کی ڈائری میں تحریر وصیت درج ذیل ہے :- وصیت منجانب عابر عبد الستار كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الموت جب وہ وقت آجائے جس کے آنے میں ذرہ بھی شبہ نہیں اور جو آہی کے رہے گا جس کا وقت سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بندہ کو اس کے متعلق کچھ نیاد سے اور جس قانون میں کوئی استثناء