ہماری کہانی — Page 54
۵۴ تمہارے والد کی باتوں کو لکھنو میں میں بڑی حیرت سے سن رہا تھا کہ یا اللہ دنیا اور دنیا کے کپڑے کس قدر گری ہوئی حالت میں ہیں کہ باپ اپنی بیٹی سے کہنا ہے کہ تم کو خلع لینا ہی ہو گا اور داماد سے کہے کہ تم اس کا وعدہ کرد کہ تم ظاہر باطن کسی طرح کا کوئی تعلق نہ رکھو نہ خط لکھو۔نہ کلکتہ آنے پر بھی کوئی ملاقات کی کوشش کرو مختصر یہ کہ تم اب اسی حالت میں مرجاؤ اور پھر کبھی ادھر کا رخ نہ کرو تو پھر میں بیٹی اور بیٹی کے بچوں کو پالوں گا۔يا للعَحَب يَا الْعَجَب یونس بھائی اور ان کے حواری بھی شاید اسی خیال میں ہوں کہ اچھا ہوا اب وہ مر ہی جائے تو یہ قصہ ختم ہو جائے مگر کیا ان کی یہ امیدیں پوری ہو جائیں گی ؟ اللہ بہتر جانتا ہے کہ غیب کا علم اسی کو ہے مگر مجھے تو کچھ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بارہ مئی کو ٹال کر کسی مصلحت سے میری عمر بڑھا دی ہے۔بہر حال میرا بھروسہ اسی پر ہے اور وہی بہترین کار ساز ہے۔زکیہ اور رابعہ کو پوری تسلی اور اطمینان دلانا اور کہتا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ یقین رکھو کہ بہت بہتری کے لئے ہو رہا ہے اور گھٹا ٹوپ اندھیرے اور طوفان میں سے پھر روشن آفتاب نکل آئے گا مگر معاملہ اللہ تعالیٰ سے رکھو۔حضرت یوسف علیہ السلام کو عزیز مصر بننے سے پہلے بھائیوں کے ہاتھ سے اندھے کنویں میں گرنا اور غلام بن کر بکنا ضروری تھا ورنہ ہرگز وہ مصر نہ پہنچتے۔جو بات آج تم کو بے عزتی اور خفت کی معلوم ہوتی ہے وہی چیز در اصل آگے چل کر عزت بنتی ہے۔رفیعہ اور ریحانہ کو پیار کرنا۔باجی کو کہنا کہ اللہ پر بھروسہ رکھے۔رحمت کو دعا کہنا عائشہ اور عظیم کو بھی۔ہادی سے کہنا کہ اطمینان رکھو کہ گھروں کا بنانا اور بگاڑ نا صرف اللہ کے اختیار میں ہے نہ کسی اور کے بنائے