ہماری کہانی — Page 46
۴۶ اے خدا اے چارہ سازی پر لایا نہ ہیں۔اسے پناہ عاجزان آمرزگار نہیں از کرم این بنده خود را به بخشش بانواز - ویں جدا افتادگان را از ترجمہا ہیں دوسری بات ذکیہ کی شادی کی اجازت ہے جس کے متعلق عرض ہے موجودہ حالت میں ہیجان و اضطراب بہت زیادہ ہے اور جدائی کے صدمات بہت زیادہ ہیں۔ایسی حالت میں جلدی مناسب نہیں ہے۔جب طبیعتوں میں سکون پیدا ہو گا دیکھا جائے گا۔رقیہ کو اختیار ہے کہ جب مناسب معلوم ہو کردے۔اصل اختیار اور مرضی تو خود عاقل و بالغ لڑکی پر ہے۔آپ نے لکھنو میں فرمایا کہ تمہاری ذات سے کسی کو دشمنی نہیں ہے بلکہ اس چیز کو صرف رو کنا ہے۔مجھے تسلیم ہے۔میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میری ذات سے دشمنی نہیں ہے مگر جس چیز کو روکنے کی ساٹھ برس سے ساری دنیا کوشش کر چکی ہے اور کامیاب نہیں ہوئی وہ بڑھ رہی ہے اور ساری دنیا کے ہر ہر گوشہ میں پھیل رہی ہے اس میں آپ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے اور کسی چیز کو روکنے کی اور جس کے پھلے بڑے کے متعلق آپ خود نہیں جانتے اور گفتگو کرنا چاہتے ہیں نہ کچھ سنا چاہتے ہیں صرف علماء کے فتوے پر دار و مدار ہے۔خیر اچھی بات ہے آپ اپنی مرضی کے مالک ہیں۔مگر کم از کم خدا کے لئے یہ تو سوچ لیجئے کہ کہیں غلط فہمی کی وجہ سے آپ اللہ کے راستہ سے تو نہیں روک رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خلاف جنگ تو نہیں کر رہے ہیں جس میں کامیابی تو ہرگز نہیں ہوگی اور بڑے سخت مواخذہ کا باعث ہوگا۔یاد رہے کہ مخالفت دوسری چیز ہے اور یہ بہت ہی خطرناک منزل ہے۔علماء نے مرزا صاحب پر کفر کے فتوے لگائے اور ان کی پیروی سے اور بیعت سے میں کافر ہوگیا۔مگر اسے اللہ کے بندو! کبھی یہ بھی اپنے علماء سے