ہماری کہانی — Page 22
۲۲ وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلاً : فأولاكَ عَلَى اللَّهُ اَنْ يَعْفُو عَنْهُمْ وَ حانَ اللهُ عَفُوا غَفُورًاه (النساء 99) یعنی سوائے ان لوگوں کے جو ضعیف رو اور مجبور ہیں مردوں میں سے اور عورتیں اور بچے جو اس کی استطاعت اور طاقت نہیں رکھتے کہ ایسا حیلہ اور حرکت کر سکیں تو قریب ہے کہ ایسی مجبوریوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے اور اللہ تو بہت ہی بڑا زبر دست معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔دوسری آیت کے مطابق تم لوگ کہوگے کہ ہمیں بھی تو بیمار کمزور اور مریض تھا مگر اب نیچے کی آیت پر غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کا جو وعدہ میرے دین اور دنیا کی بہتری کا ہے اس کا فائدہ کیوں نہ اٹھاؤں کیونکہ میرا تو اس کے ایک ایک لفظ پر ایمان ہے۔وَمَنْ يُهَاجِرُ فى سَبِيلِ اللهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرغَمَا كَثيراً وَسَعَةً وَمِنْ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرَا اِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدركه الموت فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللهِ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَحِيماً (النساء (١٠) یعنی جو شخص اللہ کی راہ میں ہجرت کرتا ہے تو زمین میں بہت کشادگی ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ بہت رزق کشادہ کر دے گا اور جو شخص اپنے گھر کو اور وطن کو چھوڑ کر اللہ اور رسول کے واسطے ہجرت کرتا ہے اور اس کے درمیان میں اس کو موت آ جاوے تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور اللہ تعالیٰ بہت بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے۔مذکورہ ہاں آیتوں کو بار بار پڑھو سمجھو غور کرو پھر پڑھو، جو شخص بھی پڑھے اور غور کرے اس کا ایک ایک لفظ صحیح ہے جس میں فرق نہیں ہے سب سے بڑی فکر جو تم لوگوں کو ہوگی وہ یہ کہ میں کہاں ہوں کیسا ہوں۔میری صحت کیسی ہے۔سنو ! میں جہاں کہیں بھی ہوں اچھا ہوں، تندرست ہوں زندہ ہوں اور تم لوگوں کو یہ