ہماری کہانی

by Other Authors

Page 18 of 124

ہماری کہانی — Page 18

۱۸ بڑی مسجد زکریا اسٹریٹ میمن جماعت کا تھا۔ان کے قریب احمدیوں کی دکانیں تھیں۔صدیق بانی صاحب ، مولوی سلیم صاحب اور مفتی شمس الدین صاحب احباب سے بابا کا رابطہ تھا۔مجھے یاد ہے ان سے 'الفضل' اور کتابیں لانے اور واپس دے کر آنے کا کام میں ہی کرتی تھی کیونکہ بابا کو بیماری کی وجہ سے پلنگ سے اٹھنے اور گھر سے نکلنے کی اجازت نہ ہوتی۔بابا میمن جماعت میں تیسرے شخص تھے جنہوں نے احمدیت قبول کی تھی۔دو رفیق مسیح تھے ایک محترم سیٹھ اللہ رکھا صاحب مدراس کے دوسرے محترم سیٹھ اسماعیل آدم حساب یونس عثمان صاحب اگلے ہی دن ہمارے گھر آئے۔غصے سے بھڑکتی آگ بنے ہوئے۔اس کو زعم تھا کہ میرے آگے پھلا حاجی عبدالستار کس طرح بول سکے گا مگر حاجی عبد الستار کے پیکر میں ایک مجبور بیمار انسان کی روح نہیں خدا تعالیٰ پر کامل ایمان کا جوش و جذبہ حلول کر چکا تھا۔یونس عثمان نے متکبرانہ اندازہ میں سوال کیا۔" سُنا ہے تم قادیانی ہو گئے ہو " " آپ نے درست سنا ہے۔بابا نے جواب دیا " تم کو اس کفر سے تو یہ کرنا ہو گی ورنہ جماعت سے نکال دیا جائیگا۔“ یونس عثمان نے کہا۔" آپ دو منٹ دیں میں وضاحت کروں گا “ بابا نے مصالحانہ طریق سے کہا۔وہ ہرگز نہیں۔تم تو بہ کر دیا میرا مکان خالی کرو۔سارہ اور عائشہ کو طلاق اور ذکیہ کی منگنی توڑ دی جائے گی" پھر دادی کو بلایا اور کہا۔آپ اپنا بوریا بستر باندھ کر ہمارے گھر آجائیں ورنہ سارہ کے ساتھ رحمت