ہماری کہانی

by Other Authors

Page 17 of 124

ہماری کہانی — Page 17

16 ہوتی ، نمازیں ہو نہیں ، اور خوب رو رو کر دعائیں ہوتیں۔اللہ پاک نے فضل کیا اور سب نے احمدیت قبول کر لی۔ابھی تک یہ بات گھر کے افراد تک تھی۔ہوا یہ کہ ہمارے گھر کے سامنے عمومی لائبریری میں 'الفضل ، آتا تھا۔اس میں میرے بابا کی قبولیت احمدیت کی خبر ممین قوم کے کچھ افراد نے پڑھ لی۔ہم جس مکان میں رہتے تھے اس کے باقی تین حصوں میں تین بھائی رہتے تھے جو مالک مکان تھے اور قوم کے سردارہ بھی تھے۔ہماری مفلسی اور بابا کی بیماری سے واقف بھی تھے۔بڑے بھائی یونس عثمان صاحب اپنی بیوی کے ساتھ حج پر گئے ہوئے تھے۔دوسرے بھائی عبدالکریم جو اُن کے بھتیجے تھے شریر النفس تھے۔وہ سب معلومات جمع کر رہے تھے اور اپنے بھائی کا انتظار کر رہے تھے۔یونس عثمان صاحب سے بابا کے بہت اچھے مراسم تھے۔لڑکیوں کے رشتوں میں بہت مدد کی تھی۔حج کے موقعہ پر بابا کی صحت اور اولاد نرینہ کے لئے دعا مانگ کر آئے تھے۔آپا رابعہ کو تو اپنی بیٹی کی طرح چاہتے تھے حتی کہ اپنی وصیت میں آپا رابعہ کا حصہ رکھا تھا۔شادی کے اخراجات کے لئے الگ رقم رکھی تھی۔جب وہ حج سے واپس آئے سب میمن جماعت کے لوگ استقبال کرنے پہنچے۔جہاز سے اترتے ہی بابا پر نظر پڑی تو سب سے پہلے ان سے تپاک سے ملے اور خیریت دریافت کی عبدالکریم اور اس کے ہم خیالوں کو یہ بات ناگوار گزری جس کو بابا نے بھانپ لیا۔گھر آئے تو نفل پڑھے اور امی سے کہا " مجھے سب کے تیور اچھے نہیں لگتے۔دعا کرو کہ دنیاوی پیار کے رشتہ کے آگے کمزور نہ پڑ جاؤں اور یہ سر صرف خدائے قادر و توانا کے آگے ہی جھکے " بابا نے ان حالات سے احمدی دوستوں کو باخبر رکھا۔کلکتہ کا مشہور علاقہ