ہماری کہانی — Page 16
14 نماز پڑھی۔خواب ہی میں بابا نے کسی سے پوچھا کہ یہ کونسی جماعتیں ہیں تو جواب ملا جو سو گئے وہ لاہوری ہیں۔جنہوں نے پوری نماز پڑھی وہ احمدی ہیں ان کا ایک خلیفہ بھی ہے۔بابا کا شرح صدر ہو چکا تھا۔احمدی احباب سے تعلقات میں اضافہ ہو رہا تھا دنیا کمانے کا ہوش نہیں تھا۔دگرگوں حالات دیکھ کر رشتہ دار کنارہ کرنے لگے۔یہ ایک طرح سے اللہ پاک کی طرف سے سبکدوشی کا سامان تھا۔خدا تعالیٰ کے فضل داحسان سے سچائی کا سورج طلوع ہو چکا تھا۔بابا نے دل سے احمدیت قبول کر لی تھی۔دادی اور پھوپھی کے سامنے دانستہ اظہار نہ کیا تھا۔امی اور بہنوں کو سمجھاتے۔میری عمر نو سال تھی مگر میں سب سمجھتی تھی۔ہماری دادی آپا رابعہ سے بہشتی زیور قصص الانبیاء وغیرہ پڑھوا کر سنتیں جن میں ذکر ہوتا کہ امام مہدی تشریف لائیں گے اور حضرت عیسی نزول فرمائیں گے۔یہ سب چودھویں صدی میں ہوگا۔آپا رابعہ بے چین ہو کر سوچتیں کہ ان کو بتادیا جائے کہ موعود مسیح و مهدی تشریف لاچکے ہیں مگر بابا کی مصلحت کے پہرے ہونٹوں کو بند رکھنے پر مجبور کرتے۔بابا کا اُٹھنا بیٹھنا ایک حکیم صاحب کے ساتھ تھا جو نیچے کی منزل میں مطب کرتے تھے۔ان کا نام حکیم زکریا تھا۔بوقت وفات انہوں نے بابا سے وعدہ لیا کہ ان کی بیویوں اور بچوں کی ہر طرح سرپرستی کریں گے اور ہر معاملے میں رہنمائی کریں گے۔ان کی وفات کے بعد بابا نے ایک حکیم غلام ذکریا صاحب سے رابطہ کیا اور وہ مطب چلانے لگے۔مرحوم کے لڑکے بھی سعادت مند تھے۔بابا کی بہت عزت کرتے تھے۔بابا نے اُن سے احمدیت کا تعارف کروایا۔چند دنوں میں انہوں نے بھی احمدیت قبول کر لی۔پھر بابا نے خاندان کے افراد کو ایک کمرے میں بلا کر ہدایت دینی شروع کی کئی دنوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔تہجد