ہماری کہانی — Page 117
114 ربوہ لے کر گئے۔یہ ہمارے خاندان کی پہلی خاتون تھیں جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئیں۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے نماز جنازہ ادا کی۔اس کی وفات کے بعد اس کے بیٹے یوسف کی شادی قادیان کے درویش محترم مولوی عمر علی صاحب کی بیٹی فریدہ سے ہوئی۔اللہ تعالیٰ کی حکمت دیکھیں۔اس کی مہربانی دیکھیں کہ بابا کی ساری اولاد نہ صرف احمدیت میں شامل ہوئی بلکہ مختلف قومیتوں میں گھل مل گئی۔کوئی بنگالی سے بیاہی گئی تو کوئی پنجابی سے۔اللہ تعالیٰ نے میمن وجود کو ختم کر کے احمدیت کی ترقی کے لئے کھا دینا دیا۔بابا کی شبانہ دعاؤں کی قبولیت کا ہر آن جواب آرہا تھا۔جو تکلیفیں اٹھانی پڑیں وہ ان راحتوں کے مقابل پر بیچے ہیں۔احمدیت کی برکت ہر لمحہ شامل حال رہی۔خدا تعالیٰ کا ایک احسان ہمارے خاندان کے نصیب میں یہ بھی آیا کہ اہ میں اسیرانِ راہِ مولیٰ میں عبد الرحیم یونس بھیا کو اسیری کی سعادت علی اکہتر سال کی عمر تھی اور الزامات میں اسرائیل میں فوجی ٹریننگ لینا بھی شامل تھا۔تین سال مقدمہ چلا کراچی منٹل جیل میں ہے گھر والوں کو پولیس تنگ کرتی تھی اس لئے یہ ربوہ منتقل ہو گئے اور اب تک وہیں ہیں۔۳۰ جون باید کو ہمیں ایک اور حادثے سے دوچار ہونا پڑا۔ہماری محسن اہماری ماں کی طرح محبت کرنے والی۔دکھ سکھ کی شریک باجی ڈھاکہ میں وفات پاگئیں۔انا لِلهِ وَانَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - موصبہ تھیں۔دُعا کی غرض سے بہشتی مقبرہ میں کتبہ لگا۔آپا رابعہ کی قبر کے قریب جگہ ملی مسلہ میں میری طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی۔محمد صاحب بڑی محنت سے علاج اور تیمارداری کرنے لگے۔بقر عید کی تیاری اور لو بلڈ پریشر نے مجھے بالکل نڈھال کر دیا تھا۔محمد صاحب نے مجھے چائے بنا کر پلائی۔ڈاکٹر کے پاس جانے کے لئے فائل نکال رہی مخفی گھر میں میرے اور محمد صاحب کے علاوہ کوئی نہ تھا۔فائل نکال کر لیٹی تو محمد صاحب پر نظر پڑی۔زرد رنگ اور دل پر