ہماری کہانی

by Other Authors

Page 112 of 124

ہماری کہانی — Page 112

۱۱۲ تھے ان کے قریب رہی۔کبھی جواب میں بھی نہ سوچا ہوگا کہ جن کو چھپ چھپ کے خط لکھتے تھے ان کی بستی میں رہیں گے۔شاید پڑھنے والوں کو محسوس ہو کہ میری کہانی طویل ہوتی جارہی ہے مگر مجھے تو یہ بتانا مقصود ہے کہ بابا کی دعاؤں سے کس طرح خاندان احمدیت سے وابستہ ہوتا گیا اس لئے نہایت اختصار سے بات کو آگے بڑھا رہی ہوں اگر سب واقعات لکھنے لگوں تو یہ الف لیلی کبھی ختم نہ ہو۔اب سینیئے ایک رات محمد صاحب نے صبح کے وقت خواب میں دیکھا کہ ہر طرف قیامت خیز آفات ہیں۔وہ بھاگ رہے ہیں مگر کہیں پناہ نہیں ہے۔اسی گھبراہٹ میں یکایک ایک سبز رنگ کا دروازہ سامنے آتا ہے محمد صاحب گھٹنے کے بل بیٹھ کر اس میں حضرت مسیح موعود کا نام لکھتے ہیں کہ دروازہ کھل جاتا ہے۔دروازے کے دوسری طرف بڑی اماں کے بیٹے مرحوم محمد بھائی ہیں۔اُن سے دریافت کرتے ہیں۔" آپ اس طرف ہیں۔بتائیے کیا احمدیت پیجتی ہے ؟ محمد صاحب کو ان کا جواب تو سمجھ نہیں آیا۔مگر وہ فقیروں کی طرح ان کو لے جاتے ہیں۔مجھے تو خواب کا یہی مفہوم سمجھ میں آیا کہ اگر احمدیت کے دروازے میں داخل نہ ہوئے تو آفات کا مقابلہ ہوگا۔اس خواب کے ساتھ ہی پاکستان منتقلی کے کا غذات میں رکاوٹ پڑنے لگی تو محمد صاحب کو خدا کا خوف محسوس ہوا۔اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ انہوں نے بیعت کا خط لکھ دیا اور اس میں سب بچوں کو بھی شامل کیا۔مولوی سلیم صاحب ، شمس الدین صاحب اور آپا زبیدہ صاحبہ کے خاندان والوں نے مٹھائی منگوائی اور بہت خوشی کا اظہار کیا۔الحمد للہ۔194ء میں کلکتہ میں زبر دست فساد ہوا۔آپا رابعہ بچوں کے ساتھ ہمارے گھر آئی ہوئی تھیں۔ایک وقت تو فسادیوں نے پورے گھر کو گھیر لیا تھا جلتی تک