ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 223 of 255

ہمارا خدا — Page 223

رکھے گا اور ان نقصوں کی وجہ سے جن کا ازالہ ان کی طاقت سے باہر تھا ان پر مواخذہ نہیں کرے گا اور نہ ان کے اعمال کی جزا کو ان کی کسی خلقی کمزوری کی وجہ سے کم ہونے دے گا۔کیونکہ جیسا کہ خُداقرآن میں فرماتا ہے اُس کا تر از وحق وانصاف کا ترازو ہے اور کوئی چیز جو کسی نہ کسی جہت سے ذرا بھی وزن رکھتی ہے اس کے تول سے باہر نہیں رہ سکتی اور نہ ہی اس کا قانون کسی قسم کے موجبات رعایت کو نظر انداز کرتا ہے۔دُنیا میں گناہ کا وجود کیوں پایا جاتا ہے؟ اس جگہ ایک اور مشبہ کا ازالہ بھی ضروری ہے اور وہ یہ کہ دنیا میں گناہ اور ظلم و تعدی کا وجود کیوں پایا جاتا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی خُدا ہوتا تو لوگ ہرگز اس طرح گناہ و معاصم اور ظلم و ستم میں مبتلا نہ ہوتے اور بدی کا وجود دنیا میں نہ پایا جاتا۔اس کا جواب یہ ہے کہ معترضین نے قانونِ شریعت کی حقیقت اور غرض و غایت اور حکمت کو نہیں سمجھا۔قانونِ شریعت اس اصل پر مبنی ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ایک ضابطہ عمل پیش کر کے ان کو سمجھا دیتا ہے کہ تمہارے لئے اس ضابطہ پر کار بند ہونا ضروری ہے اور تمہاری اخلاقی اور روحانی ترقی اس کے بغیر ممکن نہیں۔لیکن اس سمجھا دینے کے بعد وہ لوگوں کو اختیار دے دیتا ہے کہ اب تم چاہو تو اس ضابطہ عمل کو اختیار کرو اور چاہو تو اُسے رڈ کر دو اور پھر جو اسے اختیار کرتا ہے اور جس حد تک اختیار کرتا ہے وہ اس حد تک اُس کے برکات اور نیک اثرات سے مستفیض ہوتا ہے اور اپنے خدا کا قرب حاصل کرتا ہے۔اور جو اسے اختیار نہیں کرتا وہ ان باتوں سے محروم رہتا ہے۔اور اس کی یہ محرومی ہی گناہ اور جرم کے نام سے موسوم ہوتی ہے۔پس گناہ کا وجود خدا کا پیدا کردہ نہیں ہے بلکہ وہ انسان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔لہذا اس کی وجہ سے خدا پر حرف گیری کرنا یا خدا کے خلاف استدلال کرنا بالکل غلط اور باطل ہے۔223