ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 139 of 255

ہمارا خدا — Page 139

ایک باڑ ماری اور مسلمانوں کے حلیف اس غیر متوقع حملہ سے گھبرا کر پیچھے ہے۔بس پھر کیا تھا ساری اسلامی فوج میں کھلبلی مچ گئی اور اونٹ گھوڑے نیچرمیں گدھے مع اپنے سواروں کے منہ موڑ کر بے تحاشہ بھاگ نکلے۔دشمن نے یہ نظارہ دیکھا تو شیروں کی طرح گر جتا ہوا آگے بڑھا اور بھاگتے ہوئے مسلمانوں پر تیروں کا مینہ برسانا شروع کر دیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اردگر دنظر ڈالی تو میدان صاف پایا۔نہ مکہ کے جدید نومسلم نظر آتے ہیں نہ مدینہ کے وفاشعار انصار اور نہ پرانے رفقاء،مہا جر۔اور اگر کوئی نظر آتا ہے تو صرف دشمن ہے جو ایک طوفانِ عظیم کی طرح سامنے سے انڈا چلا آتا ہے اور تیروں کی بارش ہے کہ الامان ! مگر آپ ایک پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر قائم رہتے ہیں اور نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے ایک سہمے ہوئے ساتھی سے جو پاس کھڑا ہو انظر آتا ہے، فرماتے ہیں کہ ذرا میرے گھوڑے کی لگام مضبوطی سے تھام لو تا کہ یہ تیروں سے گھبرا کر پیچھے کی طرف منہ نہ موڑے اور پھر اپنے گھوڑے کو زور کے ساتھ ایڑ لگا کر یہ للکارتے ہوئے دشمن کی طرف آگے بڑھتے ہیں کہ :۔انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب یعنی ” میں اللہ کا نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں“۔نمعلوم اس آواز میں کیا جادو بھرا تھا کہ جن جن مسلمانوں کے کانوں تک یہ آواز پہنچی وہ گرتے پڑتے مارتے کاٹتے پھر اپنے آقا کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور آن کی آن میں دشمن کی بڑھتی ہوئی صفوں کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں۔الغرض یہ جنگ ہوئی اور غار حرا کے اس خلوت پسند گوشہ گزین کو مدینہ میں پناہ لئے ابھی نو سال کا عرصہ نہ گذرا تھا کہ عرب کا وسیع ملک جو نو لاکھ مربع میل کے رقبہ پر مشتمل ہے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک تکبیر کے نعروں سے گونجنے لگ گیا۔کوئی کہے گا یہ تلوار کا کھیل ہے۔میں کہتا ہوں تم بھی ایسا کھیل کر کے دکھا دو۔139