ہمارا خدا — Page 114
کام صرف معمولی طور پر کرے ؟ اگر کوئی ایسی مشین نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے تو کیا انسانی قلب میں فطری طور پر نیکی بدی کے شعور کا ہونا اور انسان کا فطرۂ نیکی کو پسند کرنا اور حالات کے مناسب رحم کھانا اور محبت دکھانا یا عفو سے کام لینا یا مصیبت زدہ کی امداد کرنایا قربانی اور ایثار دکھانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ انسان کی زندگی خود بخود مشین کے طور پر کام نہیں کر رہی بلکہ اس کے پیچھے ایک اور ہستی ہے جس نے یہ جذبات ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت اس کی فطرت میں مرکوز کئے ہیں؟ اسی طرح یہ ایک فطری خاصہ ہے کہ انسان بدی کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے حتی کہ کبھی جب خود اس سے بھی غفلت یا جوش کی حالت میں بدی کا ارتکاب ہوتا ہے تو بعد میں وہ اپنے قلب کے اندر پشیمانی اور ندامت کو محسوس کرتا ہے اور یہ کیفیت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ انسانی زندگی ایک محض مشین کے طور پر نہیں بلکہ کسی بالا ہستی نے اسے ایک خاص مقصد کے ماتحت پیدا کیا ہے اور اس کے قلب کے قلعہ پر یہ فطری پہرہ دار کسی خاص غرض و غایت کے ماتحت کھڑے کئے گئے ہیں۔انسان کے سینہ میں بیسیوں جذبات کا خزانہ مرکوز ہے اور ہر جذبہ کے متعلق یہ شعور بھی اُس کی فطرت کے اندر بطور تخم کے ودیعت کیا گیا ہے کہ اس جذبہ کا یہ استعمال اچھا ہے اور وہ استعمال بُرا ہے اور یہ کہ اسے ہمیشہ اچھے استعمال کو اختیار کرنا چاہئے اور بُرے استعمال کو نفرت کی نظر سے دیکھنا چاہئے اور شریعت ہمیشہ فطرت انسانی کے انہی مخفی تخموں کی آبپاشی کرنے اور ان کے اُگانے اور ترقی دینے کے لئے نازل کی جاتی ہے۔الغرض فطرت انسانی کے اندر نیکی بدی کا شعور موجود ہونا اس بات کا ایک زبر دست ثبوت ہے کہ انسان خود بخود اپنے آپ سے نہیں ہے اور یہ کہ اس کی زندگی ایک مشین کے طور پر نہیں چل رہی بلکہ اس کے پیچھے ایک مدرک بالا رادہ ہستی کا ہاتھ ہے جس نے اُسے ایک خاص غرض و غایت کے ماتحت پیدا کیا ہے۔وھوالمراد۔114