ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 86 of 255

ہمارا خدا — Page 86

اور جس طرح پھل کے چکھنے کے بعد کوئی شخص درخت کی شناخت میں شبہ نہیں کر سکتا۔اسی طرح اس رُوحانی پھل کے ذائقہ کرنے کے بعد خدا کا وجود بھی روز روشن کی طرح انسانی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔بہر حال خدا کے وجود کا ثبوت بھی سائنس کے حقائق کی طرح ( گو اپنے کمال کی حالت میں وضاحت میں ان سے بہت بڑھ چڑھ کر ) عقلی دلائل کے علاوہ تجربہ اور مشاہدہ پر مبنی ہے۔پس اگر بفرض محال سائنس کی کوئی ایسی تحقیق ثابت بھی ہو جو ہستی باری تعالیٰ کے خلاف نظر آئے تو پھر بھی ہم خدا کا انکار نہیں کرینگے بلکہ پھر ہم اس جدید تحقیق کے متعلق غور کریں گے کہ وہ کہاں تک درست اور قابل قبول ہے۔اور ہمارے نزدیک اس غور کا نتیجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ یہ بات ثابت ہو کہ خدا کا وجود برحق ہے اور سائنس کی یہ نام نہاد تحقیق جو اس کے خلاف نظر آتی ہے وہ یا تو در حقیقت اس کے خلاف نہیں ہے اور یا پھر کسی ناقص مشاہدہ پر مبنی ہو کر غلط طور پر ثابت شدہ حقیقت قرار دے لی گئی ہے ورنہ دراصل وہ کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔دراصل بات یہ ہے جیسا کہ آگے چل کر ثابت کیا جائے گا کہ خُدا کا وجود ایسے کامل واکمل مشاہدہ سے پایہ ثبوت کو پہنچا ہوا ہے کہ اس کے متعلق یہ کہنا کہ سائنس کی کوئی حقیقی تحقیق اس کے خلاف بھی ہو سکتی ہے دو متضاد باتوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہے جو ناممکن ہے۔سائنس اگر ہمارے مشاہدہ پر حملہ کرے تو وہ اپنی جڑھ پر خود اپنے ہاتھ سے کلہاڑا چلانے والی ٹھہرے گی کیونکہ اس کی اپنی بنیاد مشاہدہ پر ہے۔خیر یہ تو ایک زائد اور پیش از وقت سوال ہے کیونکہ آئندہ جو کچھ ہوگا وہ آئندہ دیکھا جائے گالیکن اس بات میں قطعاً کوئی شک نہیں کہ اس وقت تک سائنس کی کوئی ثابت شدہ حقیقت ایسی نہیں ہے جو معقولی طور پر ہستی باری تعالیٰ کے خلاف پیش کی جاسکے۔اور حق یہی ہے اور یہی رہیگا کہ یہ دُنیا مع اپنی بے شمار مختلف الصورت عجیب و غریب چیزوں کے اور مع اپنے 86