ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 85 of 255

ہمارا خدا — Page 85

جب عقلی دلائل کے ساتھ تجربہ اور مشاہدہ مل جاتا ہے تو پھر کوئی غلطی کا احتمال (سوائے اس کے کہ مشاہدہ ناقص ہو ) نہیں رہتا اور واقعی یہ طریق تحقیق بہترین طریق ہے اور اسی لئے دنیوی علوم میں سائنس کے ثابت شدہ حقائق اپنی پختگی میں سب پر فائق سمجھے جاتے ہیں۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جن دلائل کے ساتھ اس دنیا میں خدا کا وجود ثابت ہوتا ہے وہ بھی اسی سائنس والے طریق پر مبنی ہیں کیونکہ جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے خدا کا وجود صرف عقلی دلائل سے ہی ثابت نہیں ہوتا بلکہ سائنس کے حقائق کی طرح اس کی بنا بھی تجربہ اور مشاہدہ پر ہے بلکہ یہ تجربہ اور مشاہدہ اپنی کمیت اور کیفیت میں سائنس کے حقائق سے بہت بڑھا ہوا ہے۔عقل کی پہنچ تو صرف اس حد تک ہے کہ یہ ثابت کرے کہ کوئی خدا ہونا چاہئے“ اور اس سے اوپر کا مقام کہ واقعی ” خد ا موجود ہے تجربہ اور مشاہدہ کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے اور اس تجربہ اور مشاہدہ کا سامان خود ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے۔جیسا کہ فرمایا: لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ۔یعنی ” خدا تک انسان کی آنکھ نہیں پہنچ سکتی ( یعنی صرف عقلی دلائل سے خُدا کا عرفان حاصل نہیں ہو سکتا ) لیکن خُداخود انسانی آنکھ تک پہنچتا ہے۔“ یعنی اپنی طرف سے وہ ایسے سامان پیدا کرتا ہے کہ انسان کو خُدا کا مشاہدہ ہو سکے تا اُس کا عرفان ناقص نہ رہے۔اور یہ سوال کہ یہ مشاہدہ کس طرح ہو سکتا ہے ایک لمبا سوال ہے جس کا مفصل جواب اس کتاب کے دوسرے حصہ سے تعلق رکھتا ہے مگر اس جگہ مختصراً اس قدر اشارہ کافی ہے کہ یہ مشاہدہ اس کلام کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ اپنے پاک بندوں پر نازل فرماتا ہے جو خدائی نشانوں سے اس طرح معمور ہوتا ہے جس طرح ایک اچھا شمر دار درخت پھل کے موسم میں پھل سے لدا ہو ا ہوتا ہے سورة الأنعام آيت 104 85