ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 255

ہمارا خدا — Page 84

والا ہونگا۔پس صداقت کی پیاس تو ہماری گھٹی میں ہے جو ہمارے پیارے رسول سے ہمیں ورثہ میں ملی ہے۔لہذا اُصولی جواب تو ہمارا یہ ہے کہ جو بات بھی واقعی اور حقیقی طور پر ثابت ہوگی ہم اس پر ایمان لائیں گے خواہ وہ کچھ ہو۔لیکن حقیقی جواب یہ ہے کہ ایسی کوئی بات ہرگز ثابت نہیں ہو سکے گی جو خدا تعالیٰ کے وجود کو شک و شبہ میں ڈال دے کیونکہ ایسی بات کے ثابت ہونے کے یہ معنی ہیں کہ دو ثابت شدہ حقائق آپس میں ٹکرانے لگیں جو بالبداہت ناممکن ہے۔کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ مثلاً سائنس کی رُو سے ایک طرف تو یہ ثابت ہو کہ مقناطیس لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور پھر سائنس کی رُو سے ہی دوسری طرف یہ ثابت ہو کہ اسی قسم کے حالات میں مقناطیس لوہے کو اپنی طرف نہیں کھینچتا ؟ ظاہر ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا اور اگر کبھی بفرض محال ہمیں ایسا نظر آئے گا تو ہمیں ان دو حقیقتوں میں سے ایک کو غلط قرار دینا پڑے گا یعنی ایک کے متعلق یہ ماننا پڑے گا کہ وہ دراصل کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے بلکہ اُسے غلطی سے ایسا سمجھ لیا گیا ہے۔پس اگر بفرض محال کبھی سائنس کی کوئی ایسی تحقیق ثابت بھی ہو جس سے یہ پتہ لگے کہ دُنیا کی یہ سب چیزیں خود بخود ہمیشہ سے ہیں اور خود بخودہی یہ سارا نظام چل رہا ہے تو پھر بھی ہم صرف اس وجہ سے ہرگز خدا کا انکار نہیں کرینگے کیونکہ اگر یہ تحقیق سائنس کی تحقیق ہوگی تو خدا کا وجود بھی تو اصولاً سائنس کے طریق سے ہی پایہ ثبوت کو پہنچا ہؤا ہے۔اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک نام نہاد تحقیق کی وجہ سے دوسری ثابت شدہ حقیقت کو جس کی صداقت پر ابتداء آفرنیش سے مشاہدہ کی صورت میں مہر لگتی چلی آئی ہے ترک کر دیں بلکہ اس صورت میں ہم پہلے یہ غور کرینگے کہ یہ جدید تحقیق جسے سائنس کی ثابت شدہ حقیقت قرار دیا جاتا ہے کہاں تک درست اور قابل قبول ہے۔خوب غور کرو کہ سائنس کے حقائق کی پختگی صرف اس بنا پر تسلیم کی جاتی ہے کہ اس میں علاوہ علمی اور عقلی دلائل کے تجربہ اور مشاہدہ پر بنا ہوتی ہے۔اور یہ ظاہر ہے کہ 84