ہمارا خدا — Page 77
ہم وحکیم۔قدیر و متصرف ہستی کے ماتحت چل رہا ہے۔اگر ایک معمولی چیز کو دیکھ کر ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ وہ کسی صانع کی پیدا کردہ ہے تو ایک عجیب و غریب پر حکمت چیز کو دیکھ کر بدرجہ اولیٰ ہمارے اندر یہ ایمان پیدا ہونا چاہیے کہ وہ خود بخود نہیں بلکہ کسی بالا ہستی کی قدرت نمائی کا کرشمہ ہے۔میرے عزیز و ! خوب غور کرو کہ ان نئے علوم اور نئی تحقیقاتوں کا سوائے اس کے اور کوئی اثر نہیں ہوسکتا کہ یہ ثابت ہو کہ دُنیا ومافیہا کا قانون اس سے بہت بڑھ چڑھ کر مفصل اور حکیمانہ ہے جو اس زمانہ سے پہلے سمجھا جاتا تھا اور یہ کہ دُنیا کی مختلف چیزیں صرف اپنے الگ الگ قانون ہی کے ماتحت نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی بھی ایک نہایت حکیمانہ قانون کی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں اور ایک دوسرے پر عجیب وغریب رنگ میں اثر ڈالتی رہتی ہیں اور نیز یہ کہ دنیا کی کوئی چیز فضول اور زائد نہیں بلکہ ہر اک اپنے اپنے حلقہ میں اپنے اپنے قانون کے ماتحت اپنا اپنا کام کر رہی ہے۔مگر یہ انکشاف اگر اسے انکشاف کہا جاوے ہماری تائید میں ہے نہ کہ ہمارے مخالف۔کیونکہ اس سے خدا کے خلاف کوئی دلیل نہیں پکڑی جاسکتی بلکہ اس سے ہمارے خدا کی حکیمانہ قدرتوں کے کرشموں کا بیش از پیش اظہار ہوتا چلا جاتا ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ اُصولی طور پر یہ انکشاف کوئی نیا انکشاف نہیں بلکہ قرآن شریف آج سے تیرہ سو سال قبل اجمالاً اس حقیقت کو آشکار کر چکا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: أَوَلَمْ يَرَوْ إِلَى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ شَيْي ءٍ يَتَفَيَّوُ ظِلَالُهُ عَنِ الْيَمِيْنِ وَ الشَّمَائِلِ سُجَّدًا لِلَّهِ وَهُمْ دَاخِرُوْنَ۔وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَا فِي السَّمَواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا لَاعِبِيْنَ سورة النحل۔آیات 50،49 77 سورة الأنبياء - آيت 17