ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 76 of 255

ہمارا خدا — Page 76

قانون کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے لیکن بہر حال اس سبب اور مسبب کے سلسلہ کو خواہ کتنا بھی لمبا کھینچا جائے آخر اس کی کوئی نہ کوئی ابتداء ماننی پڑیگی جس سے یہ سب کچھ نکلا ہے۔مثلاً سائنسدان کہتے ہیں کہ نیچر کا یہ ایک قانون ہے کہ زمین سورج کے اردگرد چکر لگاتی ہے اور پھر وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ قانون نتیجہ ہے نیچر کے ایک اور قانون کا کہ جب ایک چیز پر دو یا دو سے زیادہ مختلف الجہت طاقتیں اثر ڈالتی ہیں تو وہ چیز ایک تیسری جہت میں جو ان مختلف الجہت طاقتوں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور جسے انگریزی میں ریز لٹنٹ (Resultant) کہتے ہیں حرکت کرنے لگ جاتی ہے اور زمین پر بھی چونکہ مختلف الجہت طاقتیں اثر ڈال رہی ہیں اس لئے وہ ان طاقتوں کے نتیجہ میں ایک تیسری جہت پر چل کر سورج کے گرد چکر کھانے لگ گئی ہے۔ہم اس بات کو اصولاً مانتے ہیں، لیکن ہمارا سوال پھر بھی اسی طرح قائم ہے کہ یہ اثر ڈالنے والی طاقتیں کہاں سے آئی ہیں؟ اگر کہا جائے کہ یہ طاقتیں فلاں بات کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں تو پھر یہ سوال ہوگا کہ یہ فلاں بات کہاں سے آئی ہے؟ الغرض موجودہ کا ئنات اور موجودہ نظام کا کوئی ابتدائی تخم تسلیم کرنا پڑے گا جس کے اندر بالقوۃ طور پر وہ سارے کمالات اور قوانین اور خواص موجود ماننے ہو نگے جو اس دنیا میں پائے جاتے ہیں۔پس اس طرح بھی بحث اسی نقطہ پر آگئی جس کا جواب او پر دیا جا چکا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ ان درمیانی قوانین اور ان درمیانی تغییرات کو پیش کر کے خدا کے وجود سے انکار کی راہ تلاش کرنا ایک دھوکے کا طریق ہے جس پر مغرب کے ایک علم پسند طبقہ نے نہ معلوم کس طرح تسلی پارکھی ہے۔ہم تو یہ دیکھتے ہیں کہ جوں جوں علمی تحقیقاتوں میں ترقی ہوتی جاتی ہے اور قانون نیچر کے مخفی حقائق منکشف ہوتے جاتے ہیں ، ہمارا دل عقلی طور پر زیادہ سے زیادہ بصیرت کے ساتھ اس ایمان پر قائم ہوتا جاتا ہے کہ یہ کارخانہ عالم مع اپنے نہایت درجہ حکیمانہ قانون کے ضرور کسی خالق و مالک۔76