ہمارا خدا — Page 240
تائید میں پیش کی جاتی ہیں مگر یہ سب دلیلیں ایک خیال کے لوگوں کی نہیں ہیں بلکہ مختلف خیال کے لوگوں کی پیش کردہ ہیں اور اسی لئے ان میں سے بعض ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔یعنی ایک کے قبول کرنے سے دوسری کو رڈ کرنا پڑتا ہے۔لیکن چونکہ مجھے ہر خیال کے دہریوں کی تردید مقصود تھی اس لئے میں نے سب قسم کے دلائل کو جمع کر دیا ہے اور میں اُمید کرتا ہوں کہ ان سات اُصولی دلائل کا جواب سمجھنے کے بعد ہر فہمیدہ شخص دہریوں کے عام اعتراضات کا جواب دے سکنے کے قابل ہو سکے گا۔دراصل حق یہی ہے کہ دہریوں کے ہاتھ میں کوئی دلیل نہیں ہے اور ان کے انکار کی اصل بنیاد صرف اس بات پر ہے کہ اُن کے خیال میں ابھی تک اُن کے سامنے ہستی باری تعالیٰ کی کوئی ایسی دلیل نہیں آئی جو ان کے دل میں یقین اور اطمینان پیدا کر سکے۔اور اسی لئے اُن میں سے جو لوگ نسبتاً فہمیدہ ہیں وہ کبھی بھی مثبت صورت میں یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ کوئی خدا نہیں ہے کیونکہ اس دعویٰ سے اُن کے اوپر ایک ایسی ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے جسے وہ ہرگز نبھا نہیں سکتے بلکہ وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس خدا کے موجود ہونے کا کوئی ثبوت نہیں۔لیکن جن لوگوں نے میرے اس مضمون کو نیک نیتی اور غور سے پڑھا ہے وہ اس بات کو ضرور سمجھ گئے ہونگے کہ عقلی دلائل کے دائرہ میں بھی خدا کی ہستی کی تائید والے دلائل کا پہلو اس قدر غالب ضرور ہے کہ انہیں سمجھ لینے کے بعد کوئی عقلمند انسان کم از کم خدا کی ہستی کا منکر نہیں رہ سکتا۔اور در حقیقت جیسا کہ میں نے شروع مضمون میں تصریح کے ساتھ بیان کیا تھا عقلی دلائل کی پہنچ بھی صرف اسی حد تک ہے کہ وہ خدا کے موجود ہونے کے متعلق ایک ابتدائی مرتبہ یقین کا پیدا کر دیں مگر کامل اور قطعی یقین ان دلائل سے پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لئے دوسری قسم کے دلائل کی ضرورت ہے جو تجربہ اور مشاہدہ سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کا علم ہمیں انبیاء اور صلحاء کے معجزات اور نشانات سے حاصل ہوتا ہے۔240