ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 232 of 255

ہمارا خدا — Page 232

دہریت کی ساتویں دلیل اور اس کا رو فرائیڈ کے ایک نظریہ کا بطلان ساتویں دلیل جو بعض دہریوں کی طرف سے خُدا کی ہستی کے خلاف پیش کی جاتی ہے وہ یورپ کے بعض جدید محققین کے اس نظریہ پر مبنی ہے کہ خدا کا خیال دراصل انسانی دماغ کا ایک رد عمل ہے۔ان لوگوں کا خیال ہے کہ ایک بچہ جہاں ایک طرف اپنے باپ کے ساتھ محبت کی مضبوط زنجیروں سے جکڑا ہوا ہوتا ہے اور اس کی طرف طبعی میلان پاتا ہے اور اُسے نظر استحسان سے دیکھتا ہے اور اُسے اپنی حفاظت کا ذریعہ سمجھتا ہے وہاں دوسری طرف وہ بچپن میں باپ سے ڈرتا بھی ہے اور اسے گویا اپنے لئے خطرہ کا موجب سمجھتا ہے۔لیکن ماں کے متعلق بچہ کے یہ خیالات نہیں ہوتے کیونکہ بچہ کے لئے ماں براہِ راست خوراک کا ذریعہ ہوتی ہے اور ماں کے لئے اس کے جذبات بھی زیادہ محبت اور زیادہ گرمجوشی کا رنگ رکھتے ہیں جو دوسرے تمام جذبات پر غالب رہتے ہیں اور بچہ کبھی بھی اپنی ماں کو اپنے لئے ڈر اور خطرہ کا موجب نہیں سمجھتا اور ہر حالت میں اس کی طرف لپکتا ہے اس لئے لڑکے اور ماں کے درمیان کبھی بھی اس قسم کے رقابت اور مقابلہ کے جذبات نہیں پیدا ہوتے جو ایک ہوشیار اور ترقی کی خواہش رکھنے والے لڑکے کے دل میں باپ کے متعلق آہستہ آہستہ غیر محسوس رنگ میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ان رقابت کے جذبات اور اس خاموش مقابلہ کی رُوح کے لئے بعض مغربی محققین نے اوایڈی پس کامپلیکس (Oedipus Complex) کی اصطلاح قائم کی ہے جو ایک قدیم یونانی کہانی پر مبنی ہے جس میں ایک نو جوان اوایڈی پس نامی نے اپنے باپ کو لاعلمی میں قتل کر دیا تھا اور پھر لاعلمی میں ہی اپنی ماں کے ساتھ شادی بھی کر لی تھی۔بہر حال ان محققین کا یہ خیال ہے کہ جب ایک طرف ایک لڑکا اپنے باپ کے 232