ہمارا خدا — Page 233
لئے ایک گونہ رقابت کے جذبات قائم کر لیتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے اور دوسری طرف اس کے دل میں باپ کی فطری محبت بھی جاگزین ہوتی ہے اور وہ اسے اپنی حفاظت کا ذریعہ بھی سمجھتا ہے تو اس کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ بڑے ہو کر جبکہ وہ باپ کے ابتدائی اثر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے ذہن میں جو باپ بیٹے کے تصور میں پختہ ہو چکا ہوتا ہے ایک کمی یعنی خلا سا محسوس کرنے لگتا ہے۔اور یہ خلا اُسے بالآخر ایک ایسی خیالی ہستی کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے جو اس کے لئے باپ کے تصور کی قائم مقام بن سکے اور یہی خیالی ہستی آخر کار اس کے ذہن میں ایک بالا ہستی یعنی خدا کا رنگ اختیار کر لیتی ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ نظریہ زیادہ تر یورپ کے مشہور فلاسفر اور نامور سائنس دان سگمنڈ فرائیڈ کا پیش کردہ ہے جو 1856ء میں آسٹریا کے ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوا اور بالآخر اپنے آبائی وطن کو چھوڑ کر انگلستان چلا گیا اور بالآخر 1954ء میں فوت ہو گیا۔فرائیڈ بہت سی کتابوں کا مصنف ہے اور علم النفس کے مضمون میں خصوصیت کے ساتھ ماہر سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ خدا کے تصور اور خوابوں وغیرہ کے فلسفہ کے متعلق اس نے اسی جہت سے اعتراضات کئے ہیں۔بہر حال زیر بحث نظریہ کے تعلق میں فرائیڈ کے اپنے الفاظ یہ ہیں : ” ہاں جو بھوک کے وقت بچہ کے لئے تسکین کا باعث ہوتی ہے بچہ کی محبت کا پہلا مرکز بنتی ہے۔اور اسی طرح وہ تمام غیر معلوم اور آئندہ پیش آنے والے خارجی خطرات کے مقابل پر بھی بچہ کے لئے تحفظ کا باعث بن جاتی ہے اور ہر قسم کے خوف اور تشویش کے خلاف اس کے لئے جائے پناہ ہوتی ہے۔مگر اس فعل میں جلدی ہی ماں کی جگہ اس کا نسبتاً مضبوط تر باپ لے لیتا ہے اور یہ حالت زمانہ طفولیت کے اختتام تک برابر قائم رہتی ہے۔یہ فرزندانہ تعلق ایک مخصوص قسم کے ملے جلے جذبات سے متاثر ہوتا 233