ہمارا خدا — Page 219
وقت کا اختلاف ان کی کسی پہلی جون کے اعمال کی وجہ سے ہے یہ بالکل غلط اور باطل ہے اور اس غلطی کی وجہ یہی ہے کہ ایسے لوگوں نے قانونِ نیچر کے واقعات کی وجہ قانون شریعت میں تلاش کرنی چاہی ہے۔الغرض دہریوں اور تناسخ کے ماننے والوں کا عقیدہ دراصل ایک ہی غلطی پر مبنی ہے یعنی دونوں نے قانون نیچر اور قانون شریعت کے امتیاز کو ملحوظ نہیں رکھا اور دونوں نے نیچر کے واقعہ کی وجہ قانونِ شریعت میں تلاش کرنی چاہی ہے اور چونکہ ان کو ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آئی اس لئے اس پریشانی میں ان میں سے ایک گروہ تو اس طرف مائل ہو گیا کہ نعوذ باللہ یہ سب اندھیر نگری ہے اور خدا و غیرہ کا خیال ایک خیال باطل ہے اور دوسرا گروہ اس طرف مائل ہو گیا کہ چونکہ خدا ہے اور ظالم نہیں ہے کہ بلاوجہ کسی کو سزا دے اس لئے بچوں کا پیدائش کے وقت کا اختلاف ضرور کسی پہلی جون کی وجہ سے ہوگا اور اس طرح انہوں نے تناسخ یعنی اواگون کا عقیدہ قائم کر لیا۔حالانکہ اگر یہ دونوں گروہ ذرا غور سے کام لیتے تو بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کہ خدا کی طرف سے دُنیا میں دومخلتف قانون جاری ہیں اور ان دونوں کا دائرہ عمل بالکل الگ الگ ہے اور یہ ایک سخت غلطی ہے کہ قانون نیچر کے کسی واقعہ کی وجہ قانون شریعت میں تلاش کی جائے۔خلاصہ کلام یہ کہ دنیا میں جو حادثات پیش آتے ہیں یا بیماریاں پڑتی ہیں یا مصائب کا سامنا ہوتا ہے اور ان میں بعض اوقات نیک اور معصوم لوگ بھی نقصان اُٹھاتے ہیں اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ قانونِ نیچر قانونِ شریعت سے الگ ہے اور قانونِ شریعت کی نیکی قانون نیچر کی سزاؤں سے بچا نہیں سکتی جب تک ان احتیاطوں کو کام میں نہ لایا جائے جو قانون نیچر خود اس کے لئے پیش کرتا ہے۔مثلاً پانی میں ڈوبنا ایک نیچر کا واقعہ ہے اور کسی شخص کی مذہبی نیکی اسے اس کے اثر سے بچا نہیں سکتی جب تک کہ کوئی شخص تیرنانہ سیکھے یا بعض دوسری احتیاطوں کو کام میں نہ لائے جو پانی کی غرقابی سے بچنے کے لئے نیچر 219