ہمارا خدا — Page 195
باعث ہوئی ہے یا ہو سکتی ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اس معاملہ میں لوگوں کو ایک سخت دھو کہ لگا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ایک سرا سر غلط نتیجہ نکال لیا ہے۔بات یہ ہے کہ علمی ترقی کے نتیجہ میں لازماً ایک بیداری پیدا ہوتی ہے اور وہ جمود جو جہالت کا نتیجہ ہوا کرتا ہے زندگی کی حرکت سے بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔اس حرکت کے نتیجہ میں بعض لوگ جن کا ذہنی نشو ونما صحیح طور پر ترقی یافتہ نہیں ہوتا یا جوگر دو پیش کے حالات سے متاثر ہوکر یا کسی غلط نہی میں مبتلا ہو کر غلط رستہ پر چل پڑتے ہیں اُن کے واسطے یہی بیداری اور یہی زندگی کی حرکت ٹھوکر کا موجب ہو جاتی ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں جہالت اور لاعلمی کی تاریکیوں میں گھرے ہوئے لوگ چونکہ بوجہ اپنے جمود کے ایک ہی جگہ ٹھہرے رہتے ہیں اس لئے ان کو غلط راستہ پر پڑنے کا کوئی موقعہ پیش ہی نہیں آتا۔کسی شاعر نے خوب کہا ہے کہ ؎ گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ شہسوار کی شہسواری اُسے گراتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ چونکہ شہسوار کو گرنے کے مواقع پیش آتے رہتے ہیں اس لئے وہ کبھی کبھی گر بھی جاتا ہے۔پس اگر یورپ و امریکہ میں دہریت کا اثر زیادہ ہے تو اس کی سوائے اس بات کے اور کوئی وجہ نہیں کہ علمی ترقی نے اُن کی جمود کی حالت کو زندگی کی حرکت سے بدل دیا ہے۔یعنی پہلے وہ خواب غفلت میں پڑے ہوئے ایک ہی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے مگراب ہوشیار ہو کر اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور چلنے پھرنے لگ گئے ہیں جس کے نتیجہ میں لازماً وہ اگر ترقی کر رہے ہیں تو اُن میں سے بعض لوگ بھٹک بھی رہے ہیں۔ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں۔گرتے بھی ہیں۔مگر ظاہر ہے کہ یہ علم کا قصور نہیں اور نہ علم اس کا باعث ہے بلکہ یہ علم کے غلط استعمال کا جس میں بعض لوگ مبتلا ہو جایا کرتے ہیں ایک طبعی نتیجہ 195